مودی کی شکست، الزامات اور اشتعال انگیزیوں کا نیا سلسلہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
اسلام آباد(طارق محمودسمیر)بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کی طرف سے شکست کے بعدلگائے گئے بے بنیادالزامات اوراپنی ناکامی کو کامیابی ظاہرکرنے کی کوششیں
جاری ہیں ،بھارتی عوام کو دھوکہ دینے اوراپنے اشتعال انگیزبیانات کے ذریعے پاکستان سے عبرت ناک شکست کوچھپانے کی کوششیں جاری ہیںاورانہوں نے اپنے ایک خطاب میں پاکستان پربے بنیادالزامات عائد کئے اورپاکستان کے دفترخارجہ نے ان الزامات کو سختی سے مستردکردیاہے،بہرحال ایک حقیقت تو واضح ہوچکی ہیکہ پاکستان کی فوج اورفضائیہ نے بھارت پر اپنی برتری ثابت کرلی ہیاوردنیابھرمیںاسے تسلیم کیاگیاہے،اب تو بھارتی فوجی ترجمان بھی یہ مان رہے ہیں کہ رافیل طیارے گریہیں،پاکستانی پائلٹس کی مہارت اورچینی ٹیکنالوجی کو دنیابھرمیں شہرت مل چکی ہے،پاکستانی پارلیمنٹ نے نریندرمودی کو سرینڈرمودی کاخطاب دے دیاہے،اس ضمن میں پیپلزپارٹی کے رہنماعبدالقادرپٹیل نے قومی اسمبلی سے اپنے خطاب میں کہاہے کہ اب اس کا نام نریندرنہیں سرینڈرمودی ہے اور اس نام اسے لکھااورپکاراجاناچاہئے،دوسری جانب ترکیہ کے صدررجب طیب اردوان نے وزیراعظم شہبازشریف سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے اورشہبازشریف نے پاکستان کی حمایت کرنے پر ان کا شکریہ اداکیاہے،ترک صدرنے کہاہے کہ ان کاملک مشکل کی ہرگھڑی میں پاکستان کے ساتھ کھڑاہیتاہم اب دونوں ممالک کو چاہئے کہ متنازعہ امورمذاکرات کے ذریعے حل کریں،بہت خوش آئندبات ہے کہ پاکستان پرجب بھارت نے جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی تواس پر ترکی نے صرف زبانی جمع خرچ کی بجائے عملی طورپر مدد کی ،نہ صرف سفارتی محاذ پر بھرپورمدد کی بلکہ اپنابحری بیڑہ بھی یکجہتی کے اظہارکے لئے کراچی بھجوایا،ترکی کے اس اقدام پر بھارت تلملااٹھااوربھارتی میڈیانے خوب پروپیگنڈا کیا،پاکستان اورترکی ہمیشہ ایک دوسرے کے قریبی دوست رہے ہیں چاہے وہ خلافت عثمانیہ کا زمانہ ہویا1947کے بعد قونیہ شہرمیں ترکی کے صوفی بزرگ شاعرحضرت مولانارومی کے مزارکے قریب شاعرمشرق حضرت علامہ اقبال کی ایک علامتی قبربھی بنائی گئی ہیاورترکیہ کے عوام علامہ اقبال کی شاعری سے بہت متاثرہیں،جب خلافت عثمانیہ کے خلاف غیرمسلم قوتیں جنگ کررہی تھیں تو برصغیرپاک وہندسے بڑی تعدادمیں مسلمان جہاد کے لئے بھی گئے تھے جسے ترکیہ کے عوام آج تک یاکرتے ہیں اور یہ واقعہ ان کے نصاب میں شامل ہے،علاوہ ازیں تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان سے اڈیالہ جیل میں علیمہ خان اور دیگررہنماوں نے ملاقات کی اس موقع پر عمران خان نے ایک بارپھراس خدشے کااظہارکیاہیکہ مودی کو اپنی شکست پر غصہ ہے اوروہ پاکستان پر دوبارہ حملہ کرنے کی کوشش کرے گاایسے مواقع پر قومی اتحاد کامظاہرہ ضروری ہے،اسی اثناء میں ایک سینئرصحافی سہیل وڑائچ نے اپنے کالم انکشاف کیاہیکہ بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی اور جنگ کی صورتحال میں جب حکومت نے آل پارٹیزکانفرنس بلانے کا پیغام بھیجاتوعمران خان نے اس موقع کوضائع کردیااوراے پی سی میں پی ٹی آئی قیادت کو شرکت سے روک دیااس طرح انہوں نے ایک بارپھرانہوں نے اسٹیبلشمنٹ سے مفاہمت کا موقع ضائع کردیاہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
بھارتی سرپرستی میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ حبیبہ پیرجان نوجوانوں کو نہ صرف ملک دشمنی پر ورغلاتی ہیں، بلکہ اپنی نفرت انگیز پروپیگنڈا شاعری کے ذریعے ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیکر معصوم ذہنوں کو دہشتگردی پر اکساتی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے بلوچوں کے حقوق کی قاتل، حکام نے کوئٹہ تفتان شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ مسترد کردیا
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف اور ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں، جنہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا، تاہم وہ علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، ہلاک شدہ بی ایل اے عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا جبکہ بھارتی فنڈنگ کے کچھ اہم ثبوت بھی سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد اور انٹیلیجنس معلومات سے یہ اشارے ملے ہیں کہ حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، سے قریبی روابط رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق انہوں نے دشت کے جنگلات میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 مرتبہ ملاقات کی، جن میں سے ایک ملاقات رواں برس 14 فروری کو ہوئی تھی۔
سیکیورٹی اداروں کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مبینہ طور پر وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بعض بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) شخصیات سے رابطوں اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے بھارتی سرپرستی میں ریاست مخالف زہریلے اور شر انگیز مواد کی تشہیر میں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان اپنی شاعری کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلانے اور ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دینے پر مامور ہیں، جبکہ اس حوالے سے ملنے والے مزید شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی اداروں نے کہا ہے کہ ملک دشمن مطلوب خاتون کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں اور تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی سرپرستی بی ایل اے خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان رستم پیرجان