بھارت میں حکمران جماعت بی جے پی کی ایک ریاستی وزیر وجے شاہ نے انڈین آرمی کی کرنل صوفیہ قریشی کو مبینہ طور پر دہشتگردوں کی بہن قرار دے دیا ہے جس کے بعد ان پر شدید تنقید کی جارہی ہے۔

مدھیہ پردیش کے وزیر وجے شاہ نے صوفیہ قریشی کے بارے میں یہ ریمارکس مبینہ طور پر ان کی مسلم شناخت کی وجہ سے دیے تاہم اس تبصرے پر تنقید ہونے کے بعد انہوں نے کہا ہے کہ ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹاکر پیش کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: ’جنگ نہیں چاہتے‘، انڈیا نے گھٹنے ٹیک دیے،بھارتی فوج کی ترجمان کی پریس کانفرنس

دوسری طرف صوفیہ قریشی کے بھائی بنٹی سلیمان نے کہا ہے کہ صوفیہ ہمارے ملک کی بیٹی ہیں، انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے وجے شاہ کے تبصرے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

وجے شاہ نے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت نے آپریشن سندور کے ذریعے دہشت گردوں کو ان کی بہن کے ذریعے پیغام پہنچایا۔

سوشل میڈیا پر اس جملے کو بی جے پی کی انتہاپسندانہ اور مسلم مخالف سوچ کا مظہر قرار دے کر ان سے معافی کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: بی جے پی کی انتہا پسندانہ سیاست، منی پور میں اقلیتوں کیخلاف تشدد کی نئی لہر

کرنل صوفیہ قریشی حالیہ دنوں بھارتی آپریشن سندور کے بعد متعدد بار بھارتی سیکریٹری خارجہ وکرم مصرے کے ساتھ پریس بریفنگس دیں جس کے بعد ان کا حالیہ دنوں میڈیا میں بار بار ذکر ہورہا ہے۔

ان کا تعلق آرمی کے سگنل کور سے ہے اور وہ کثیر القوامی موجی مشق ‘فورس 18’ میں دستے کی سربراہی کرنے والی پہلی خاتون کمانڈر ہونے کا بھی اعزاز حاصل کرچکی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انتہاپسندی بھارت بی جے پی صوفیہ قریشی وجے شاہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: انتہاپسندی بھارت بی جے پی صوفیہ قریشی وجے شاہ صوفیہ قریشی بی جے پی وجے شاہ کے بعد

پڑھیں:

بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا

بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔

میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔

یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔

        View this post on Instagram                      

تاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔

حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو  ہونے کا اندیشہ
  • حج تھا یا پکنک؟ شدید تنقید کے بعد وسیم اکرم، مصباح الحق اور فخر عالم نے خاموشی توڑ دی
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا