صدر اور وزیراعظم کا بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کی ہلاکت پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
—فائل فوٹو
صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کی ہلاکت پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
ایک بیان میں صدر مملکت نے کہا کہ چار روز میں 50 دہشت گردوں کی ہلاکت سیکیورٹی فورسز کی مہارت اور بہادری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ قوم دہشت گردی کے خلاف اپنی بہادر مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے امن، استحکام اور ترقی کے دشمن کبھی کامیاب نہیں ہوں گے، دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک یہ جنگ پوری قوت سے جاری رہے گی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق 4 روزہ انسدادِ دراندازی آپریشن میں ہلاک خوارج کی مجموعی تعداد 50 ہو گئی۔
دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف نے پاک افغان سرحد سمبازا پر خوارج کے خلاف کامیاب آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے سمبازا میں پہلے47 اور کل 3 بھارتی سرپرستی میں سرگرم خارجیوں کو ہلاک کرنے پر تعریف کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کی عفریت کے ملک سے مکمل خاتمے تک اس کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان شب و روز ارضِ وطن کو دہشت گردوں سے پاک کرنے میں مصروف عمل ہیں۔ افواج پاکستان کو مجھ سمیت پوری قوم خراج تحسین پیش کرتی ہے۔ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے غیرمتزلزل عزم میں قوم افواج پاکستان کے شانہ بشانہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سیکیورٹی فورسز کہا کہ
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔