ژوب میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، مزید 3 بھارتی حمایت یافتہ خوارج ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
تصویر بشکریہ آئی ایس پی آر
ژوب کے علاقے سمبازہ میں سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کے دوران مزید 3 بھارتی حمایت یافتہ خوارج کو ہلاک کر دیا۔
انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق 7 تا 9 اگست کو ژوب میں کارروائیوں کے دوران 47 خوارج مارے گئے تھے، 4 روزہ انسدادِ دراندازی آپریشن میں ہلاک خوارج کی مجموعی تعداد 50 ہو گئی۔
اس سے قبل پاک فوج نے ژوب میں بھارتی حمایت یافتہ خوارج کی دراندازی کی کوشش ناکام بناتے ہوئے 33 خوارج کو ہلاک کردیا تھا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک خوارج سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد ہوا ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق سیکیورٹی فورسز ملک کی سرحدوں کے تحفظ اور امن و استحکام کے لیے پُرعزم ہیں۔ سیکیورٹی فورسز ملکی ترقی کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے پُرعزم ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سیکیورٹی فورسز یافتہ خوارج ایس پی
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔