پانچ ممالک پاکستان کے کروڑوں ڈالرز کے ڈیفاٹلرز، آڈٹ رپورٹ میں انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستان مختلف ممالک اور عالمی مالیاتی اداروں کا مقروض تو ہے مگر 5 ایسے ملک بھی ہیں جو پاکستان کے ڈیفالٹرز ہیں۔
آڈٹ حکام کے انکشاف میں 5 ممالک پاکستان کے کروڑوں ڈالرز کے ڈیفالٹر نکلے، جن میں سری لنکا، بنگلا دیش، عراق، سوڈان اور گنی بساؤ شامل ہیں۔
حکومت پاکستان 40 سال گزرنے کے باوجود ان پانچ ممالک سے 30 کروڑ 45 لاکھ ڈالر واپس لینے میں ناکام رہا ہے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق ملکی کرنسی میں یہ رقم 86 ارب روپے سے زائد بنتی ہے، پاکستان نے 80 اور 90 کی دہائی میں ایکسپورٹ کریڈٹ دیا تھا۔
عراق کے ذمہ پاکستان کے سب سے زیادہ 23 کروڑ 13 لاکھ ڈالر واجب الادا ہے جبکہ سوڈان سے 4 کروڑ 66 لاکھ ڈالر وصول کرنے ہیں۔
بنگلا دیش کے ذمہ شوگر پلانٹ اور سیمنٹ کی مد میں 2 کروڑ 14 لاکھ ڈالر ادا کرنے ہیں جبکہ پاکستان نے گنی بساو سے بھی 36 لاکھ 53 ہزار ڈالر وصول کرنے ہیں۔
آڈیٹر جنرل آفس نے 07-2006 میں اس ریکوری کی نشاندہی کی تھی۔
حکام وزارت اقتصادی امور کے مطابق دفتر خارجہ کے ذریعے ریکوری کے لیے کوشاں ہیں، ڈپلومیٹک چینل اور مشترکہ وزارتی کمیٹیز کے ذریعے بھی کوششیں کی گئیں، ان پانچ ممالک کو یاددہانی کے خط اور ڈیمانڈ نوٹسز بھی بھجوائے گئے۔
آڈیٹر جنرل کی رقم ریکور کرنے کے لیے معاملہ مناسب سطح پر اٹھانے کی سفارش کی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان کے لاکھ ڈالر
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔