پاکستان اور روس نے گزشتہ روز کراچی میں ایک نئی اسٹیل مل کے قیام پر اتفاق کیا ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو بڑھانا ہے۔

یہ معاہدہ روس کے نمائندے ڈینس نذروف اور وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر خان کے درمیان ہونے والی ملاقات میں طے پایا۔

یہ بھی پڑھیں:روس پاکستان کے ساتھ دوستی کے نئے اُفق کی تلاش میں ہے، ویلنٹینا مٹوینکو کا سینیٹ سے تاریخی خطاب

ایک نیوز ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ’بات چیت کا بنیادی محور پاکستان میں نئی ​​اسٹیل ملز کا قیام تھا‘۔

دونوں فریق کراچی میں ایک نئی اسٹیل مل کے قیام کے لیے پاکستان اور روس کے درمیان ممکنہ تعاون کے حوالے سے وسیع بات چیت میں مصروف رہے۔

انہوں نے اس اقدام کی ترقی اور نفاذ میں سہولت فراہم کرنے کے لیے ایک مشترکہ ورکنگ گروپ بنانے پر اتفاق کیا۔

ملاقات کے دوران ہارون اختر خان نے پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کے وزیر اعظم کے وژن پر زور دیا۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان اسٹیل ملز کو برباد کرنے والے کون؟

انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ یہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے ملک میں سرمایہ کاری کرنے کا ایک مناسب وقت ہے، اس لیے کہ پاکستان بین الاقوامی سرمایہ کاری اور کاروبار کے لیے ایک مضبوط اور محفوظ مقام کے طور پر ابھرا ہے۔

ہارون اختر نے مزید کہا کہ پاکستان سرمایہ کاری کا ایک محفوظ اور فروغ پذیر مرکز ہے اور عالمی برادری نے اس کی صلاحیت کو تسلیم کیا ہے۔

انہوں نے تمام روسی تاجروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کی دعوت بھی دی۔

اس ملاقات نے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور اسٹیل کی پیداوار جیسے اہم شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کے لیے نئی راہیں کھولنے کے لیے ایک اہم قدم بھی قرار دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسٹیل مل پاکستان ڈینس نذروف روس کراچی ہارون اختر خان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسٹیل مل پاکستان ڈینس نذروف کراچی ہارون اختر خان سرمایہ کاری ہارون اختر کے درمیان اسٹیل مل کے لیے

پڑھیں:

علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق

ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان اور آذربائیجان نے دیرینہ دوستی مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کردیا
  • پاکستان کے زرمبادلہ میں اضافے کے لیے سرمایہ کاری ناگزیر، قونصلیٹ ہر ممکن تعاون کرے گا: قونصل جنرل سید مصطفیٰ ربانی
  • پاکستان ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی، پہلا میچ کل سے شروع ہوگا
  • پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے