سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کاکوئی طریقہ کارموجود نہیں، صدرورلڈ بینک
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کاکوئی طریقہ کارموجود نہیں، صدرورلڈ بینک WhatsAppFacebookTwitter 0 14 May, 2025 سب نیوز
ورلڈ بینک کےصدر اجے بنگا نے بھارت پر واضح کردیا کہ سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں۔
ورلڈبینک کےصدراجےبنگا نےبھارتی میڈیا کو انٹرویو میں اجےبنگا نےکہا کہ سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں ہوا، بھارت نےعمل درآمد روک دیا ہے، سندھ طاس ختم کرنے یا نیا معاہدہ کرنے کیلئے دونوں ملکوں کا متفق ہونا ضروری ہے۔
صدر ورلڈ بینک نےمزیدکہاسندھ طاس معاہدہ یا تو ختم ہوسکتا یا اسکی جگہ دوسرا معاہدہ ہوسکتا، اختلاف کی صورت میں ورلڈ بینک کاکردارایک سہولت کارکاہے،ہم صرف اختلافات دورکرنےکیلئےماہرین کی خدمات حاصل کرسکتےہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربھارت نے سکھ یاتریوں کے پاکستان آنے پر پابندی لگا دی بھارت نے سکھ یاتریوں کے پاکستان آنے پر پابندی لگا دی پاکستان اور بھارت کے درمیان سیز فائر کا خیرمقدم کرتے ہیں: سعودی ولی عہد تاریخ رقم: شفقت علی کینیڈا کے پہلے پاکستانی نژاد وفاقی وزیر بن گئے پرویز الٰہی نے منی لانڈرنگ کے مقدمے میں بریت کی درخواست دائرکردی اچھے اور برے وقت میں ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑے رہیں گے: ترک صدر پاکستان کو آئی ایم ایف سے موجودہ قرض پروگرام کی دوسری قسط موصول ہوگئیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔