شکست خوردہ بھارت کی بوکھلاہٹ عروج پر ، ترک اور چینی خبر رساں اداروں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ بلاک کردیے
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
بھارت تاحال پاکستان کی منہ توڑ جوابی کارروائی کے اثر سے باہر نہ آسکا اور اس نام نہادجمہوریت کے سب سے بڑے علمبردار ہونے کے دعویدار ہندو انتہا پسند ملک نے سچ دکھانے پر غیر ملکی خبر رساں اداروں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی بند کرنا شروع کر دیے ہیں۔
بھارتی میڈیا کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے ترک نشریاتی ادارے کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ بھارت میں بند کر دیا ہے جبکہ بھارتی عوام بھی ترک مصنوعات کا بائیکاٹ کر رہے ہیں۔بھارتی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ انڈین عوام ترکیے کو سیاحتی مقام کے طور پر بھی نظر انداز کر رہے ہیں۔
دوسری جانب بھارت میں دو چینی میڈیا اداروں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی بند کر دیے گئے ہیں۔بھارت کی جانب سے چین کے سرکاری انگریزی اخبار گلوبل ٹائمز اور چین کی سرکاری نیوز ایجنسی Xinhua کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کئے گئے ہیں۔
چین میں بھارتی سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ متعدد خبر رساں اداروں نے آپریشن سندور میں بھارتی افواج کو پاکستانی فورسز کے ہاتھوں نقصان پہنچنے سے متعلق رپورٹس چلائیں، بھارتی سفارتخانے نے گلوبل ٹائمز کو ٹیگ کرتے ہوئے یہ بھی لکھا کہ برائے مہربابی خبریں چلانے سے پہلے ان کی تصدیق کر لیا کریں۔یاد رہے کہ اس سے قبل بھارت حکومت پاکستان کے کئی سرکاری اداروں اور صحافیوں کے اکاؤنٹس بھی بھارت میں بلاک کر چکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: کے سوشل میڈیا اکاو اکاو نٹس
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔