بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی ایک اور نفرت انگیز بیان کی زد میں آگئی ہے۔

مدھیہ پردیش کے وزیر اور بی جے پی کے سینئر رہنما وجے شاہ نے بھارتی فوج میں خدمات انجام دینے والی مسلم کرنل صوفیہ قریشی کو "دہشتگردوں کی بہن" قرار دے دیا، جس کے بعد بھارت کی سیاست میں زبردست ہلچل مچ گئی ہے۔

یہ بیان کرنل صوفیہ کی جانب سے آپریشن سندور کی میڈیا بریفنگ کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے پاک فوج کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں بھارت کو پہنچنے والے نقصانات کا اعتراف کیا تھا۔

وجے شاہ نے الزام لگایا کہ: "وزیر اعظم مودی نے دہشتگردوں کی بہن کو ہی فوجی جہاز میں بھیج کر حملے کروائے، کیونکہ ہماری بہنیں بیوہ ہو گئیں۔"

یہ بیان سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں آ گیا، اور اسے بھارتی فوج کی مسلم اہلکاروں کے ساتھ متعصبانہ رویہ قرار دیا جا رہا ہے۔

کانگریس پارٹی نے وجے شاہ سے فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیان ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش ہے۔

کانگریس صدر ملک ارجن کھرگے نے کہا کہ: "بی جے پی رہنما کا بیان نفرت انگیز، قابلِ مذمت اور کرنل صوفیہ کی حب الوطنی پر حملہ ہے۔ انہیں فوری طور پر کابینہ سے ہٹایا جائے۔"

تجزیہ کاروں کے مطابق، بی جے پی حکومت فوجی ناکامی کا بوجھ مسلمانوں پر ڈالنے کی پرانی روش دہرا رہی ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کرنل صوفیہ بی جے پی

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • 200 سال قدیم "از غیب شہید مسجد" کو مودی حکومت نے رات کی تاریکی میں مسمار کردیا
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو  ہونے کا اندیشہ
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش