بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے انڈین پریمئیر لیگ (آئی پی ایل) میں غیر ملکی کرکٹرز پر دباؤ بڑھانے لگا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کے بعد بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے آئی پی ایل کو دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا تاہم آسٹریلیا سمیت کئی ممالک کے غیر ملکی کرکٹرز نے واپسی کو سیکیورٹی خدشہ قرار دیا۔

غیرملکی کرکٹرز کی جانب سے انکار نے بھارتی میڈیا اور بورڈ کو طیش دلادیا جس کے بعد بی سی سی آئی نے دیگر بورڈز سے رابطہ کرکے کھلاڑیوں کو بھیجنے کا دباؤ بڑھایا۔

مزید پڑھیں: آسٹریلوی کرکٹرز بھارت جانے سے کترانے لگے، وارنر پاکستان واپسی کو تیار

بی سی سی آئی نے آئی پی ایل کے چیف آپریٹنگ آفیسر کو ہدایت دی کہ آسٹریلیا اور انگلینڈ سمیت تمام بورڈز سے انفرادی طور پر رابطہ کرکے کھلاڑیوں کے خدشات کو دور کریں۔

بھارتی کرکٹ بورڈ کے عہدیدار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تمام غیرملکی بورڈز سے رابطے میں ہیں اور فرنچائزز اپنے کھلاڑیوں سے براہ راست بات کر رہی ہیں تاکہ سب کو واپس لایا جاسکے۔

مزید پڑھیں: "آئی پی ایل؛ بھارت میں غلط معلومات نے ہمیں ڈرا دیا تھا"

دوسری جانب کرکٹ آسٹریلیا نے گزشتہ روز اپنے جاری کردہ اعلامیے میں کہا تھا کہ بورڈ پلئیرز کے فیصلے کا احترام کرے گا، اگر وہ جانا چاہتے ہیں تو کوئی نہیں روکے گا تاہم ٹیم مینجمنٹ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئین شپ میں شریک کھلاڑیوں سے متعلق فیصلے کا حق رکھتی ہے۔

بورڈ نے مزید کہا تھا کہ اپنے کرکٹرز کی حفاظتی انتظامات سے متعلق بھارتی بورڈ کیساتھ رابطے میں ہیں۔

مزید پڑھیں: شکست خوردہ بھارتیوں نے آسٹریلوی کرکٹر کو بھی نہ بخشا

واضح رہے کہ آئی پی ایل 17 مئی سے دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے، ایونٹ کا فائنل 3 جون کو ہوگا اور آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا فائنل 11 جون سے کھیلا جانا ہے۔

ادھر آئی پی ایل میں دہلی کیپیٹلز کی نمائندگی کرنیوالے آسٹریلوی فاسٹ بولر مچل اسٹارک کی اہلیہ اور ویمنز ٹیم کی کپتان ایلیسا ہیلی نے انڈین پریمئیر لیگ (آئی پی ایل) کے دھرم شالہ میں میچ اچانک روکے جانے پر شدید تنقید کی تھی۔

مزید پڑھیں: "پی ایس ایل کیلئے کبھی پاکستان نہیں آؤنگا" بھارتی دعویٰ جھوٹا نکلا

ایلیسا ہیلی کا کہنا تھا کہ اطلاعات کے فقدان کی وجہ سے دھرم شالہ میں کھلاڑی خوف کا شکار رہے، مجھے لگتا ہے کہ بھارت میں آئی پی ایل میچز کیلئے آسٹریلوی کرکٹرز کو اب حکومت سے سیکیورٹی کی یقین دہانی لینی چاہیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ا ئی پی ایل مزید پڑھیں

پڑھیں:

نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا

 

 

بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

Huge crowd of students floods roads of Nashik.

Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY

— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026

ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘  کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔

دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج

یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا