پروفیسر شاداب احمد صدیقی

بھارت معرکہ حق کی شکست کے بعد پوری دنیا اور اپنے عوام کے سامنے ذلیل و رسوا ہو رہا ہے جو کہ پاکستان کی سفارتی سطح پر بڑی کامیابی ہے ۔مودی کے جھوٹے بیانیہ پر بھارت کے عوام بھی یقین کرنے کو تیار نہیں ہے ۔عالمی میڈیا نے بھی مودی کی ڈرامے بازی کا پول کھول دیا۔ بھارت کا مکروہ چہرہ ساری دنیا کے سامنے آگیا ہے ۔مودی کسی کا یار نہیں ہے، صرف اپنی الیکشن مہم کو کامیاب بنانے کیلئے اپنے عوام کو بے وقوف بنا کر پاکستان سے جنگ کی فضا پیدا کر کے الیکشن جیتنا چاہتا ہے ۔
مودی کی گندی سیاست پاکستان دشمنی پر مبنی ہے ۔آپریشن سندورمیں پاکستان کے ہاتھوں بدترین شکست پر بھارت شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہے جب کہ مہینوں بعد اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے بھارتی ایئرچیف نے 6پاکستانی طیارے مارگرانے کا مضحکہ خیز بیان دے دیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی ایئر چیف نے مضحکہ خیز دعویٰ بنگلور میں ایک میموریل لیکچر کے دوران کیا۔بھارتی ایئرچیف نے دعویٰ کیا کہ بھارت نے پاکستان کے پانچ لڑاکا اورایک ریڈار طیارہ تباہ کیے ۔ یہ جھوٹا من گھڑت بیان سستی شہرت حاصل کرنے کے مترادف ہے ۔ آرمی چیف اپنی عوام کو لولی پاپ دے کر خوش کرنا چاہتا ہے لیکن بھارتی عوام نے بھی اس بیان کو رد کر دیا ہے جبکہ پاکستان کی طرف سے بھارتی طیاروں کی تباہی کا اعتراف خود بھارتی آرمی چیف بھی کرچکے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’کے مطابق بھارتی فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ نے جنوبی شہر بنگلورو میں ایک تقریب کے دوران کہا کہ زیادہ تر پاکستانی طیارے بھارت کے روسی ساختہ ایس۔400زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل نظام سے مار گرائے گئے ، انہوں نے دعوے کی تصدیق کے لیے الیکٹرانک ٹریکنگ ڈیٹا کا حوالہ دیا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس کم از کم 5 لڑاکا طیارے مار گرائے جانے کی تصدیق ہے اور ایک بڑا طیارہ بھی، انہوں نے مزید کہا کہ بڑا طیارہ جو کہ ممکنہ طور پر ایک نگرانی کا طیارہ ہو سکتا ہے ، (300کلومیٹر 186میل) کے فاصلے پر مار گرایا گیا۔اے پی سنگھ نے کہا کہ یہ دراصل تاریخ کا سب سے بڑا ریکارڈ شدہ زمین سے فضا میں مار کرنے والا حملہ ہے ، جس پر مجمع نے تالیاں بجائیں جس میں فضائیہ کے موجودہ افسران، سابق فوجی اور حکومت و صنعت کے اہلکار شامل تھے ۔ اے پی سنگھ نے یہ نہیں بتایا کہ کون سے لڑاکا طیارے مار گرائے گئے لیکن کہا کہ فضائی حملوں نے ایک اور نگرانی کے طیارے اور کچھ ایف-16 طیاروں کو بھی نشانہ بنایا جو جنوب مشرقی پاکستان کے 2 فضائی اڈوں پر کھڑے تھے ۔ قارئین کو ضرور اس بات پر ہنسی آئی ہو گی۔
اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا
لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں
بھارتی فضائیہ کے سربراہ کا تین ماہ بعد پاکستان کے فوجی طیارے گرانے کا دعویٰ بے معنی اور غیر منطقی ہے اور یقیناسیاسی قیادت کے دباؤ میں یہ بیان دیا گیا ہوگا۔لیکن اب پانی سر سے گزر چکا ہے اور عالمی برادری نے بھی بھارت کی شکست کو تسلیم کر لیا ہے ۔معرکۂ حق کے 95 روز بعد پاکستانی طیارے گرانے کا بھارتی دعویٰ بے بنیاد اور مضحکہ خیز ہے ، یہ دعویٰ بھارت کی مزید جگ ہنسائی کا باعث بنے گا۔بھارتی حکومت کا ایک بڑا سنگین مسئلہ یہ ہے کہ وہ کسی بھی ٹھوس شواہد اور ثبوت کے بغیر الزام تراشی کرتے ہیں۔عالمی برادری کا اب بھارت کے قول و فعل سے اعتبار اٹھ گیا ہے ۔
انڈین ایئر چیف کی جانب سے پاکستانی طیارے گرانے کے دعوے کے بعد بھارت کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کانگریس نے وزیر اعظم مودی پر حملے بڑھا دیے ، کانگریس کا کہنا ہے کہ جب ایئر چیف کہہ رہے ہیں کہ 5 پاکستانی لڑاکا طیارے آپریشن کے دوران مار گرائے تھے تو انہوں نے 10مئی کو آپریشن سیندور کیوں روک دیا تھا؟ کانگریس کے سیکریٹری جنرل جے رام نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ بھارتی فضایہ کے سربراہ امرپریت سنگھ نے آج جو انکشافات کیے ہیں، اس کے بعد یہ بات مزید حیران کن بن جاتی ہے کہ وزیر اعظم نے 10مئی کو یہ آپریشن اچانک کیوں بند کر دیا تھا؟ یہ دباؤ بھارتی وزیراعظم پر کہاں سے آیا تھا اور اتنی جلدی اسکے سامنے کیوں گھٹنے ٹیک دیے گئے ؟ یہاں دلچسپ امریہ ہے کہ موجودہ مون سون اجلاس کے دوران بھارتی پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے ارکان بشمول راہول گاندہی بھارتی وزیراعظم سے اور دیگروزراء سے بھارتی لڑاکا طیاروں کی تباہی کے حوالے سے سوالات پوچھتے رہے لیکن بھارتی وزیراعظم سمیت کسی نے ان سوالات کا جواب نہیں دیا۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھارت نے اتنی جلدی کیوں ہار مان لی؟ کانگریس اس بات پر اصرار کرتی رہی ہے کہ وزیر اعظم امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے بار بار ان دعوؤں پر صفائی پیش کریں کہ انہوں نے جوہری ہتھیاروں سے لیس پڑوسیوں کے درمیان جنگ بندی کیلئے ثالثی کی تھی؟ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے بھارتی فضائیہ کے سربراہ کے بیان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا کوئی طیارہ نہیں گرا، آزادانہ ذرائع سے طیاروں کے ذخیرے کی تصدیق کرا نے کا چیلنج،پاکستان نے 6بھارتی طیارے ، S-400دفاعی نظام،ڈرونز، متعدد فضائی اڈے تباہ کیے ، جنگیں جھوٹ سے نہیں، اخلاقی برتری، پیشہ ورانہ مہارت سے جیتی جاتی ہیں،3ماہ بعد یہ مزاحیہ بیانیہ سیاسی فائدے کیلئے گھڑا گیا ہے ۔عالمی سطح پر بھی بھارتی طیارے گرانے کے اعترافات سامنے آئے ہیں اور انٹرنیشنل میڈیا نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے ۔ پاکستان کے پاس اس بات کے واضح ثبوت موجود ہیں۔
بھارت خطے کا انتہا پسند اور منفی سوچ کا حامل ملک ہے جو اپنی دہشت گردی کی وجہ سے دنیا بھر میں بے نقاب ہوچکا ہے ، عالمی قوتوں کو بھی اس دہشت گرد ملک کی سازش اور کشمیر میں ظلم کی داستان کا مکمل علم ہوچکا ہے ، اسی لئے اب وہ چین اور روس کی جانب جھک رہا ہے ، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بے پناہ قربانیوں سے دنیا پر ثابت کردیا ہے وہ امن کا خواہاں ملک ہے ،جس نے ہمیشہ دنیا اور خطے میں امن کے قیام کی کوشش کی ہے ، پاکستان اپنے پڑوسی ملک کے ساتھ بھی برابری کی بنیاد پر بات چیت کا خواہش مند رہا، مگر بھارت کی مودی سرکار نے پچھلے دس سال میں ثابت کردیا کہ بھارت میں مسلمانوں، سکھوں سمیت اقلیتی قوموں کے لئے کوئی محفوظ مقام نہیں،افواج پاکستان اور عوام ایک ہیں وہ ہر قسم کی پراکسی وار اور مودی گردی کو کچل کر رکھ دیں گے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: پاکستانی طیارے بھارتی فضائیہ طیارے گرانے پاکستان کے فضائیہ کے مضحکہ خیز کے سربراہ انہوں نے کی تصدیق بھارت کی کے دوران ایئر چیف کہ بھارت سنگھ نے اس بات نے بھی کہا کہ

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم