کوئٹہ، علی مدد جتک کی جشن فتح ریلی پر دستی بم دھماکہ، 8 افراد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
پولیس کے مطابق منیر مینگل روڈ پر علی مدد جتک کی ریلی پر نامعلوم افراد نے دستی بم پھینکا۔ جسکے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی علی مدد جتک کی قیادت میں نکالی جانیوالی جشن فتح ریلی پر دستی بم دھماکہ ہوا ہے۔ پولیس کے مطابق منیر مینگل روڈ پر سریاب روڈ سے ہاکی گراؤنڈ کی طرف جانے والی علی مدد جتک کی ریلی پر نامعلوم افراد نے دستی بم پھینکا۔ جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ ایمرجنسی خدمات انجام دینے والے ادارے توخی فاؤنڈیشن کے ترجمان کے مطابق سول ہسپتال کوئٹہ میں 8 افراد لائے گئے ہیں، جنہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ مذکورہ ریلی پاک فوج کی حمایت میں نکالی گئی تھی اور ہاکی گراؤنڈ میں جاری حکومت بلوچستان کے جلسے میں شرکت کے لیے روانہ تھی۔ دھماکہ اس وقت ہوا جب ریلی کا قافلہ سریاب کے قریب مرکزی شاہراہ پر پہنچا۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے، جبکہ زخمیوں کو سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علی مدد جتک کی ریلی پر دستی بم
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔