فون کی بیٹری لائف کی وجہ سے پریشان لوگوں کےلیے اچھی خبر آ گئی
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
کیا آپ اپنے آئی فون کی بیٹری لائف کی وجہ سے پریشان رہتے ہیں؟
تو اچھی خبر یہ ہے کہ بہت جلد آپ کے آئی فون کی بیٹری معمول سے زیادہ وقت تک کام کرنے لگے گی اور ایسا آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی سے ممکن ہوگا۔بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق ایپل کے آئی فونز کے لیے نئے آپریٹنگ سسٹم آئی او ایس 19 میں ایک اے آئی فیچر کو متعارف کرایا جا رہا ہے جو بیٹری لائف کو بہتر بنائے گا۔
اس فیچر سے آئی فون کی جانب سے بیٹری پاور خرچ کرنے کے عمل کو زیادہ بہتر کیا جائے گا۔یہ نیا فیچر صارفین کے بیٹری ڈیٹا کو استعمال کرکے سمجھے گا کہ آپ کس طرح ڈیوائس کو استعمال کرتے ہیں اور بتائے گا کہ کس طرح آپ مخصوص ایپس یا فیچرز کو بیٹری لائف چوسنے سے روک سکتے ہیں۔
گوگل نے اسی طرح کا فیچر اڈاپٹیو بیٹری کے نام سے اینڈرائیڈ فونز کے لیے 2018 میں متعارف کرایا تھا جو صارفین کی جانب سے ڈیوائس کے استعمال کے انداز کا تجزیہ کرکے مدد فراہم کرتا ہے۔آئی او ایس 19 کو ستمبر میں آئی فون 17 سیریز کے ماڈلزکے ساتھ متعارف کرایا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق آئی او ایس 19 میں لاک اسکرین کے لیے ایک انڈیکٹر بھی متعارف کرایا جا رہا ہے جو یہ بتائے گا کہ آپ کا مکمل چارج فون کتنے وقت تک چلے گا۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ایپل کی جانب سے آئی فون 17 سیریز کے لیے اے آئی بیٹری منیجمنٹ کو بھی متعارف کرایا جا رہا ہے۔
بنیادی طور پر اس منیجمنٹ کو آئی فون 17 ائیر کو مدنظر رکھ کر تیار کیا گیا ہے کیونکہ یہ کمپنی کا اب تک کا سب سے پتلا فون ہوگا اور اس کے ڈیزائن کے باعث اس میں بیٹری بھی دیگر ماڈلز کے مقابلے میں چھوٹی ہوگی۔مگر اے آئی بیٹری ٹول ان تمام آئی فونز کو دستیاب ہوگا جن کو آئی او ایس 19 پر اپ ڈیٹ کیا جاسکے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: متعارف کرایا ا ئی او ایس 19 بیٹری لائف ا ئی فون اے ا ئی کے لیے فون کی
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔