کیا آپ اپنے آئی فون کی بیٹری لائف کی وجہ سے پریشان رہتے ہیں؟

تو اچھی خبر یہ ہے کہ بہت جلد آپ کے آئی فون کی بیٹری معمول سے زیادہ وقت تک کام کرنے لگے گی اور ایسا آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی سے ممکن ہوگا۔بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق ایپل کے آئی فونز کے لیے نئے آپریٹنگ سسٹم آئی او ایس 19 میں ایک اے آئی فیچر کو متعارف کرایا جا رہا ہے جو بیٹری لائف کو بہتر بنائے گا۔

اس فیچر سے آئی فون کی جانب سے بیٹری پاور خرچ کرنے کے عمل کو زیادہ بہتر کیا جائے گا۔یہ نیا فیچر صارفین کے بیٹری ڈیٹا کو استعمال کرکے سمجھے گا کہ آپ کس طرح ڈیوائس کو استعمال کرتے ہیں اور بتائے گا کہ کس طرح آپ مخصوص ایپس یا فیچرز کو بیٹری لائف چوسنے سے روک سکتے ہیں۔

گوگل نے اسی طرح کا فیچر اڈاپٹیو بیٹری کے نام سے اینڈرائیڈ فونز کے لیے 2018 میں متعارف کرایا تھا جو صارفین کی جانب سے ڈیوائس کے استعمال کے انداز کا تجزیہ کرکے مدد فراہم کرتا ہے۔آئی او ایس 19 کو ستمبر میں آئی فون 17 سیریز کے ماڈلزکے ساتھ متعارف کرایا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق آئی او ایس 19 میں لاک اسکرین کے لیے ایک انڈیکٹر بھی متعارف کرایا جا رہا ہے جو یہ بتائے گا کہ آپ کا مکمل چارج فون کتنے وقت تک چلے گا۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ایپل کی جانب سے آئی فون 17 سیریز کے لیے اے آئی بیٹری منیجمنٹ کو بھی متعارف کرایا جا رہا ہے۔

بنیادی طور پر اس منیجمنٹ کو آئی فون 17 ائیر کو مدنظر رکھ کر تیار کیا گیا ہے کیونکہ یہ کمپنی کا اب تک کا سب سے پتلا فون ہوگا اور اس کے ڈیزائن کے باعث اس میں بیٹری بھی دیگر ماڈلز کے مقابلے میں چھوٹی ہوگی۔مگر اے آئی بیٹری ٹول ان تمام آئی فونز کو دستیاب ہوگا جن کو آئی او ایس 19 پر اپ ڈیٹ کیا جاسکے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: متعارف کرایا ا ئی او ایس 19 بیٹری لائف ا ئی فون اے ا ئی کے لیے فون کی

پڑھیں:

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔

صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔

ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔

پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔

حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟

مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم