خطے میں امن کے وسیع مفاد میں جنگ بندی پر اتفاق کیا، وزیراعظم کا انتونیو گوتریس سے تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
اسلام آباد:
وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے بھارتی قیادت کے مسلسل اشتعال انگیز بیانات پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے خطے میں امن کے وسیع تر مفاد میں جنگ بندی پر اتفاق کیا۔
وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں جنوبی ایشیا کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا، گزشتہ دو ہفتوں کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ تیسرا ٹیلیفونک رابطہ ہے۔
وزیر اعظم نے جنوبی ایشیا کی کشیدہ صورت حال کم کرنے کے لیے سیکریٹری جنرل کی قیادت اور سفارتی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ سیکریٹری جنرل کی سفارت کاری اور رابطے اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں اور مقاصد کے تحفظ کے ساتھ ساتھ جنوبی ایشیا میں امن کے حوالے سے ان کی دلچسپی کا مظہر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے خطے میں امن کے وسیع تر مفاد میں جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے، وزیر اعظم نے پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا ہر قیمت پر دفاع کرتے ہوئے، جنوبی ایشیا میں امن کے فروغ کے لیے اپنے مضبوط عزم کا اعادہ کیا۔
وزیر اعظم نے بھارت کی جانب سے دہشت گردی کے جھوٹے الزامات اورجارحیت کی مذمت کی اور اسے ایک خطرناک مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو اس کا مناسب نوٹس لینا چاہیے۔
انہوں نے بھارتی قیادت کے مسلسل اشتعال انگیز بیانات پر بھی تشویش کا اظہار کیا جو علاقائی امن کے لیے خطرہ ہیں۔
شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق جموں و کشمیر کے تنازع کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں پائیدار امن یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہے اور سیکریٹری جنرل پر زور دیا کہ وہ اس کے منصفانہ حل میں اپنا کردار ادا کریں۔
سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ نے جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے شہریوں کی جانوں کے ضیاع پر تعزیت کا اظہار کیا، انہوں نے علاقائی امن واستحکام آگے بڑھانے کے لیے دونوں فریقین کے ساتھ رابطے جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی امن کے فروغ کے لیے کام کرنا ان کا فرض ہے جس کی دنیا کو ضرورت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سیکریٹری جنرل جنوبی ایشیا اقوام متحدہ میں امن کے کا اظہار کے لیے
پڑھیں:
دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔
ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔