موجودہ حالات کے ذمہ دار قابض ٹولہ ہے، پی ٹی آئی کوئٹہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
اپنے بیان میں پی ٹی آئی رہنماؤں نے کہا کہ ایک جانب بانی پی ٹی آئی اور دوسری جانب کرپٹ ٹولہ ہے جو 70 سال سے ملک پر قابض اور ملکی دولت کو لوٹ رہا ہے۔ آج ملک کے حالات انہی کیوجہ سے ابتر ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف کوئٹہ کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ پاکستان پر 70 سال سے قابض ٹولے کے باعث موجودہ صورتحال ابتر ہے۔ آج ملک کو عمران خان کی ضرورت ہے۔ اپنے مشترکہ بیان میں پی ٹی آئی رہنماء محمد رحیم کاکڑ، سردار حسن شاہ، جمیل بوستان ایڈووکیٹ و دیگر نے کہا کہ اختلافات ہمیشہ بہادر اور اصول پسند لوگ رکھتے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان ملکی تاریخ کے اصول پسند اور بہادر انسان ہیں اور ہر کارکن کو ان پر فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک جانب بانی پی ٹی آئی اور دوسری جانب کرپٹ ٹولہ ہے جو 70 سال سے ملک پر قابض اور ملکی دولت کو لوٹ رہا ہے۔ آج ملک کے حالات انہی کی وجہ سے ابتر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج پاکستان کو ایک نئے لیڈر کی ضرورت ہے جو عوام کے مسائل حل اور ملک کو بحرانی کیفیت سے نکال کر ترقی کی راہ پر گامزن کرسکے۔ عمران خان اس وقت پاکستان کی ضرورت ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے کہا کہ ا
پڑھیں:
عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
عالمی منڈی میں سونے کی قیمت(Gold Rates) مسلسل دوسرے روز بھی دباؤ کا شکار رہی، کیونکہ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے آئندہ مہینوں میں شرح سود بڑھانے کے امکانات نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.4 فیصد کمی کے بعد 4,030.09 ڈالر فی اونس رہ گئی، جبکہ امریکی گولڈ فیوچرز بھی 0.4 فیصد کم ہو کر 4,033.20 ڈالر فی اونس پر آ گئے۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ سونا ہفتہ وار بنیاد پر معمولی اضافے کی جانب گامزن ہے، تاہم بلند شرح سود کے خدشات کے باعث اس کی قیمتوں پر دباؤ برقرار ہے۔
مزیدپڑھیں:پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب شرح سود میں اضافے کی توقع ہوتی ہے تو سونے جیسی ایسی سرمایہ کاری، جس پر منافع یا سود نہیں ملتا، نسبتاً کم پرکشش ہو جاتی ہے۔
سرمایہ کاروں کی نظریں اب آئندہ ہفتے ہونے والے امریکی فیڈرل ریزرو کے پالیسی اجلاس پر مرکوز ہیں۔ مارکیٹ کی توقع ہے کہ اس اجلاس میں شرح سود برقرار رکھی جائے گی، تاہم ستمبر میں شرح سود میں اضافے کے امکانات بدستور مضبوط سمجھے جا رہے ہیں