Express News:
2026-06-03@07:37:36 GMT

فتح کا معاشی ماڈل اور خود انحصاری

اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT

ایک جنگ میں مسلمانوں کو فتح نہیں حاصل ہورہی تھی جس پر تمام صحابہ کرام نے مشورہ کیا کہ آخر کون سی سنت رسولؐ ہم سے چھوٹ گئی ہے۔ بالآخر چھوٹی ہوئی سنت مبارکہ کو اپنایا گیا اور فتح حاصل ہو گئی الحمدللہ۔ پاک افواج نے محض چند گھنٹوں میں ہی دشمن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا، پاک فوج کئی دنوں سے صبر و تحمل کا مظاہرہ کر رہی تھی کہ ہفتے کی علی الصبح نماز فجر کی ادائیگی کے بعد اسلامی روایات کے مطابق دشمن کو سبق سکھانے کے لیے جوابی کارروائی کا آغازکردیا گیا اور چند ہی گھنٹوں میں دشمن کو دھول چٹا دی اور پاکستان فاتح بن کر عالمی سطح پر نمودار ہوا۔

اس کے مثبت اثرات ملکی اور عالمی سطح پر محسوس کیے گئے۔ پیر کو اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی دیکھی گئی، ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا، ملکی سطح پر زبردست عوامی اتحاد نے سیاسی استحکام کی راہ ہموارکی۔ اب حکومت پر منحصر ہے کہ وہ اسے کس طرح عالمی پیمانے پر مستحکم خارجہ پالیسی تشکیل دے کر مزید کامیابی سمیٹ لیتی ہے۔ کچھ عرصے سے غیر ملکی سرمایہ کار جوکہ پاکستان کی صورت حال سے پریشان تھے اب وہ زبردست اعتماد کی بحالی کے بعد زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری میں دلچسپی لیں گے۔

پاکستان کی خود انحصاری کی بنیادیں مزید مضبوط ہو کر رہیں گی۔ ایک ملک چاہے وہ بڑا ہو یا چھوٹا ہو اگر اس میں زبردست قسم کی دفاعی صلاحیت پائی جاتی ہو تو خود انحصاری کو زبردست تقویت حاصل ہو جاتی ہے۔ اب ان باتوں کو حکام فوری طور پر اپنی صنعت و ملکی تجارتی برآمدات کی بہتری کے لیے استعمال کرتے ہوئے ملک میں بڑھتی شدید بے روزگاری میں کمی لا سکتے ہیں۔

اب پاکستان فوری طور پر اس فتح کو آئی ایم ایف کے پاس جا کر کیش کرا سکتا ہے کیونکہ جب پاکستان کی معیشت مستحکم ہونے جا رہی ہے تو ایسی صورت میں آئی ایم ایف سے بہت سے نکات پاکستان اپنے حق میں منوا سکتا ہے۔ برآمدات میں اضافے کے امکانات روشن ہو چکے ہیں، اس جنگ نے پاکستان کو عالمی سطح پر نئی شناخت دے دی ہے، کئی ممالک ایسے ہیں جو پاکستان کے ساتھ نئی تجارتی شراکتیں قائم کرنے کا سوچ رہے ہوں گے۔

خصوصاً عرب ممالک کے وسطی ایشیائی ممالک کے علاوہ پڑوسی ملک افغانستان جس کے بارے میں پاکستانی حکام نے واضح کر دیا ہے کہ پاکستان افغانستان کو ’’سی پیک‘‘ میں شامل کرنے کے عزم پر قائم ہے۔ گزشتہ دنوں پاکستان، چین اور افغانستان کی سہ فریقی کانفرنس کابل میں منعقد ہوئی تھی۔ پاکستان اس وقت اپنی فتح کا معاشی ماڈل اپنی مرضی کے مطابق تشکیل دے سکتا ہے۔

پاکستان کو فوری طور پر ایک موقعہ مل گیا ہے اور چونکہ وہ ملکی سطح پر بھی ہے اس لیے اسے کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ وہ ہے فتح کے بعد کا معاشی ماڈل جس کے لیے پاکستان کو شروعات کے طور پر اپنی صنعتوں کی بحالی کے لیے کام کرنا ہوگا۔

اس میں دفاعی صنعتوں کو مزید ترقی دینے کی ضرورت ہے کیونکہ اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اپنے گھوڑے تیار رکھو۔ یعنی اسلحہ سے لیس رہو۔ اس کے علاوہ ملکی صنعتوں کو ترقی دینے کے ساتھ دنیا میں تشکیل پانے والی نئی عالمی تجارتی کروٹ کو مدنظر رکھنا ہوگا، کیونکہ امریکا اور چین کے درمیان ہونے والے کامیاب مذاکرات کے بعد عالمی معیشت پر اس کے مثبت اثرات ظاہر ہونے والے ہیں۔ اس پس منظر میں پاکستان کس طرح سے اپنی برآمدات کو اب دگنا کر سکتا ہے کیونکہ اس کا موقعہ آ گیا ہے۔

اس کے علاوہ اپنی معاشی ترقی میں اضافے، اپنی ملکی مصنوعات کی کھپت میں زیادہ سے زیادہ اضافے کے لیے تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہوگی۔ اس سلسلے میں اس بات کا خیال رکھنا پڑے گا کہ ان بوڑھے پنشنروں کا کیا بنے گا جوکہ پہلے ہی کرایوں کے مکان میں رہتے ہیں اور ان کے کرایوں میں ہر سال 10 فی صد کے حساب سے اضافہ ہوتا ہے۔ اب پنشن میں اضافے کی ایک بڑی رقم مالک مکان اینٹھنے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور یہ کامیابی یقینی ہوتی ہے۔

بصورت دیگر کرایہ دار کا سامان مکان کے باہر۔ یہ تماشا آئے روز دیکھنے کو ملتا رہتا ہے۔ 2023 میں حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 5 فی صد اضافہ کیا تھا جب کہ پنشنرز کو بہت کم اضافہ حاصل ہو سکا۔ لہٰذا حکومت اس مرتبہ تمام پنشنروں کم ازکم گریڈ 18 تک کے افراد کی پنشن میں 25 فی صد اضافہ کرے اور پرائیویٹ ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا اعلان کافی نہیں ہے بلکہ اس پر عمل درآمد کا سختی سے جائزہ بھی لیا جائے۔

اس طرح جب لوگوں کی رقوم مل کر مجموعی رقم کی صورت میں ملکی مجموعی طلب کو بڑھا دے گی، صنعتوں کی پیداوار میں اضافہ ہوگا، اشیائے خور و نوش سے لے کر تمام ضروریات زندگی کی خریداری میں اضافہ ہوگا جس سے ملک کی جی ڈی پی بڑھے گی اور یہ سب مل کر ملکی شرح نمو میں اضافے کا باعث بن جائے گا۔ اس طرح ہم دنیا کو بتا سکتے ہیں کہ آئی ایم ایف کے اندازے غلط ثابت ہو گئے۔ فتح کے معاشی ماڈل سے اب ہم نے معاشی ترقی کی زیادہ سے زیادہ شرح کو حاصل کرلینا ہے پاکستان زندہ باد !

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: معاشی ماڈل میں اضافے سکتا ہے حاصل ہو کے بعد

پڑھیں:

سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک

حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔

اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔

آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔

موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔

یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔

حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔

عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔

بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔

وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔

متعلقہ مضامین

  • پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
  • سونے کی قیمت میں پھر ہوشربا اضافہ
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ