ٹک ٹاک بیوٹی انفلوئنسر لائیو اسٹریم کے دوران قتل، وجہ سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
میکسیکو(نیوز ڈیسک)میکسیکو میں نامور ٹک ٹاک بیوٹی انفلوئنسر کو لائیو اسٹریم کے دوران فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق میکسیکو کے شہر زاپوپان میں 23 سالہ ولیریا مارکیز کو اُس وقت گولی مار دی گئی جب وہ اپنے بیوٹی سلون سے ٹک ٹاک پر لائیو اسٹریم کر رہی تھیں۔
ٹک ٹاکر ولیریا کے انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر تقریباً 2 لاکھ سے زائد فالوورز تھے، انہوں نے لائیو اسٹریم کے دوران ایک پارسل وصول کیا اور کیمرے کے سامنے واپس آئیں مگر چند لمحوں بعد وہ اپنی کرسی پر خون میں لت پت گر گئیں اور لائیو ویڈیو جاری رہی۔
پولیس کے مطابق فائرنگ کرنے والا ایک ملزم سلون میں داخل ہوا اور ولیریا پر فائرنگ کردی، یہ واقعہ ایک مشتبہ فیمیسائیڈ (Femicide) ہے، یعنی کسی خاتون کو صنفی بنیاد پر قتل کرنا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق خواتین پر بڑھتے ہوئے تشدد اور قتل کی وارداتوں نے ایک بار پھر میکسیکو کے نظام انصاف پر سوالیہ نشان کھڑا کردیا ہے۔
اسلام آباد میں گیس سلنڈر کا دھماکا، خاتون جاں بحق
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: لائیو اسٹریم ٹک ٹاک
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔