بلاول بھٹو نے انٹرنیشنل میڈیا میں پاکستان کی جنگ لڑی، شرجیل انعام میمن
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
---فائل فوٹو
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ بلاول بھٹو نے انٹرنیشنل میڈیا میں پاکستان کی جنگ لڑی۔
ہمیں ایٹمی قوت ذوالفقار علی بھٹو نے بنایا، بھارت کے خلاف حالیہ جنگ میں سپریم کمانڈر کی حیثیت سے صدر آصف علی زرداری بھی موجود تھے۔
کراچی میں پی پی پی کی جانب سے یومِ تشکر کے پیشِ نظر منقعدہ تقریب سے خطاب کے دوران وزیرِ اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا کہ لیڈر شپ کی ہدایت پر سندھ بھر میں یومِ تشکر و یومِ فتح منا رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاک افواج نے بھارت کو دھول چٹائی، یہ تاریخ میں سنہری الفاظ سے لکھا جائے گا، دشمن کو شکست دینے پر پاک افواج کو سلام پیش کرتا ہوں۔
شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ دنیا کو پیغام چلا گیا ایشیا کی سُپر پَاور پاکستان ہے، اس جنگ کو میڈیا اور سوشل میڈیا کے ساتھ 24 کروڑ عوام نے جیتا ہے، پاکستان کی میڈیا نے صرف سچ دیکھا اور بولا۔
سینئر وزیر سندھ شرجیل میمن نے کہا کہ بلاول بھٹو نے مودی کو گجرات اور کشمیر کا قصائی قرار دیا تھا، اب تو کہا جائے گا کہ مودی جنوبی ایشیا کا قصائی ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ توانائی سندھ ناصر حسین شاہ نے کہا کہ جنگ میں فتح کے بعد بہادر افواج کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، تقریب میں اصل ہیروز افواجِ پاکستان کے جوان ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے ایسی فتح حاصل کی ہے جس سے پوری قوم متحد ہو گئی ہے، تمام سیاسی جماعتوں کے رہنما تقریب میں شریک ہوئے ہیں، ہمیں کوئی بھی طاقت ہرا نہیں سکتی۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مودی کو رافیل پر گھمنڈ تھا، ہماری فضائیہ نے رافیل گرائے، بھارت کے خلاف آپریشن کا آغاز نمازِ فجر کے بعد کیا گیا۔ ہم نے میڈیا کی جنگ میں بھی فتح حاصل کی، سوشل میڈیا نے بھارتی میڈیا کو زیرو بنا دیا۔
ناصر حسین شاہ نے کہا کہ شہداء اور زخمیوں سے متعلق وزیراعلیٰ سندھ اعلان کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
گلگت: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں. امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں. جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں. میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں. گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے.
قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ انہیں کون سمجھائے کہ بھٹو کے 70ء کے دور میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق یہاں سے پچاس ہزار میگا واٹ تک بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور یہاں ایک پروفیسر یہ کہہ کر خوش ہورہا ہے کہ یہاں سو میگا واٹ بجلی دینا میرے داہنے ہاتھ کا کام ہے، اگر داہنے ہاتھ کا کام ہے تو کیا کیوں نہیں؟ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے اپنی بجلی پیدا کریں گے اور اسلام کو فروخت کریں گے.پروفیسر کو فروخت کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔