بھارت سے کشیدگی کے بعد پاکستانی ساختہ ہتھیاروں کی مانگ میں ہوشربا اضافہ، رضا حیات ہراج کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار رضا حیات ہراج نے کہا ہے کہ پاک بھارت جنگ کے بعد پاکستانی ساختہ جنگی ساز و سامان کے لیے دنیا بھر سے اتنے آرڈرز آ رہے ہیں کہ شاید وہ 2 سال میں بھی پورے نہ ہوں سکیں۔
مزید پڑھیں: پنجاب: اسکولوں میں آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی پر پاک فوج سے اظہار یکجہتی
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی مسلح افواج بری، نیوی اور ائیر فورس کی قدر دنیا اس لیے کرتی ہے کہ وہ نہ صرف اپنے اپنے شعبے میں قابل ہیں بلکہ انتہائی پروفیشنل بھی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ پاک افواج کے بھرپور جوابی حملوں نے دشمن کو شکست فاش سے دوچار کیا ،ہمارے جوانوں نے بہادری کے جوہر دکھائے جنہیں پوری دنیا نے تسلیم کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وطن عزیز کی طرف اٹھنے والی میلی آنکھ کو پھوڑ ہیںدیا جائے گا ،افواج پاکستان اور پوری قوم ملکی دفاع کیلئے ہر قربانی دینے کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک بھارت جنگ پاک فوج رضا حیات ہراج وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاک بھارت جنگ پاک فوج رضا حیات ہراج
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔