کیا قلم کی لکھائی، نشانات والے کرنسی نوٹ منسوخ ہونے والے ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
سوشل میڈیا پر ایک خبر خاصی وائرل ہورہی ہے جس کے مطابق حکومت ان کرنسی نوٹس کو منسوخ کرنے والی ہے جن پر قلم سے کچھ لکھا یا نشان لگایا گیا ہو۔
یہ بھی پڑھیں:
اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایسے تمام نوٹ 30 جون تک ہی کارآمد رہیں گے اور ان کو بینک سے تبدیل کروایا جاسکتا ہے تاہم یکم جولائی کے بعد ایسے تمام کرنسی نوٹ جن پر ہاتھ سے کچھ بھی تحریر ہوگا وہ کسی کام کے نہیں رہیں گے۔
اس حوالے سے میڈیا نے اسٹیٹ بینک سے رابطہ کیا تاکہ اس خبر کی تصدیق یا تردید ہوسکے جس پر بینک نے ان دعوؤں کو مسترد کردیا کہ جن کرنسی نوٹس پر قلم کے نشانات یا ہاتھ کی تحریریں ہوں گی وہ یکم جولائی 2025 کے بعد قابل استعمال نہیں رہیں گے۔
مرکزی بینک نے ایسی رپورٹوں کو غلط اور گمراہ کن قرار دے دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے چیف ترجمان نور احمد نے واضح کیا ہے کہ مرکزی بینک نے ایسا کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا۔
ترجمان نے مزید کہا کہ کرنسی نوٹ قومی اثاثہ ہیں اور ان کا تقدس برقرار رکھنے کے لیے انہیں احتیاط سے ہینڈل کیا جانا چاہیے تاہم قلم کے نشان والے نوٹوں کے استعمال پر پابندی کی کوئی پالیسی نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسٹیٹ بینک قلم کی لکھائی والے نوٹ کرنسی نوٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹیٹ بینک کرنسی نوٹ کرنسی نوٹ
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔