اس دور میں واٹس ایپ دنیا بھر میں رابطے کا مقبول ترین ذریعہ ہے، نا صرف پیغامات بلکہ صارفین روزانہ کی تعداد میں اپنی تصاویر، ویڈیوز اور دستاویزات بھی واٹس ایب کے ذریعے ایک دوسرے کو بھیجتے ہیں۔

البتہ اب یہی ایپ لوگوں کے لیے پریشانی کا سبب بن رہی ہے، حالیہ مہینوں میں پاکستان میں واٹس ایپ ہیکنگ کے واقعات میں تشویشناک اضافہ دیکھا گیا ہے۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو موصول ہونے والی معلومات کے مطابق، یکم جولائی 2024 سے اب تک ہیکنگ سے متعلق 1,426 سے زائد شکایات درج ہو چکی ہیں۔ ان میں سے 549 اکاؤنٹس کو کامیابی سے بحال کر لیا گیا ہے جب کہ باقی کیسز پر تفتیش جاری ہے۔

اس تشویشناک صورتحال نے عام صارفین کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے کیونکہ ان کی ذاتی معلومات، تصاویر اور رابطے محفوظ نہیں رہے۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے اس دور میں جب روزمرہ زندگی کا انحصار ڈیجیٹل ذرائع پر بڑھتا جا رہا ہے۔

ضروری ہے کہ ہر فرد اپنی آن لائن موجودگی کی حفاظت کے لیے ٹھوس اقدامات کرے، خاص طور پر واٹس ایپ جیسے مقبول پلیٹ فارم پر۔

1) دوہری تصدیق

واٹس ایپ ہیکنگ سے بچاؤ کے لیے سب سے اہم قدم دوہری تصدیق کا استعمال ہے، جسے عام طور پر “ٹو اسٹیپ ویری فیکیشن” کہا جاتا ہے۔ یہ سہولت واٹس ایپ میں صارف کو ایک اضافی سکیورٹی کوڈ سیٹ کرنے کی اجازت دیتی ہے جو کسی بھی نئے ڈیوائس پر اکاؤنٹ سیٹ اپ کرنے سے پہلے درکار ہوتا ہے۔

اگر کوئی ہیکر آپ کا نمبر حاصل بھی کر لے، تب بھی وہ آپ کا اکاؤنٹ فعال نہیں کر سکے گا جب تک کہ اسے وہ مخصوص کوڈ نہ معلوم ہو۔ یہ عمل اکاؤنٹ کے سکیورٹی لیول کو نمایاں طور پر بڑھاتا ہے اور ہیکنگ کی کوششوں کو ناکام بناتا ہے۔

2) پرائیویسی سیٹنگز کا محتاط استعمال

واٹس ایپ پر اپنی معلومات کو محفوظ بنانے کے لیے پرائیویسی سیٹنگز کا درست استعمال نہایت اہم ہے۔ اکثر لوگ لاپرواہی سے اپنی پروفائل تصویر، لاسٹ سین اور اسٹیٹس کو سب کے لیے کھلا چھوڑ دیتے ہیں، جس سے وہ ہیکرز کے لیے آسان ہدف بن جاتے ہیں۔

آپ کو چاہیے کہ صرف اپنے محفوظ رابطوں کو اپنی معلومات تک رسائی کی اجازت دیں۔ اس طرح غیر متعلقہ یا مشکوک افراد کو آپ کی ذاتی معلومات تک پہنچنے سے روکا جاسکتا ہے، جو عموماً ہیکنگ کے لیے پہلا قدم ہوتا ہے۔

3) ایپلیکیشن ہمیشہ اپ ڈیٹ رکھیں

اکثر صارفین اپنے فون کی ایپلیکیشنز کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹ نہیں کرتے، حالانکہ واٹس ایپ کی ہر نئی اپ ڈیٹ میں نہ صرف نئی خصوصیات بلکہ سیکیورٹی بگز کے حل بھی شامل ہوتے ہیں۔ ایک پرانی ورژن والی ایپ ہیکرز کے لیے آسان ہدف بن سکتی ہے، اس لیے یہ ضروری ہے کہ واٹس ایپ کو وقتاً فوقتاً اپ ڈیٹ کیا جائے۔ اپنے موبائل کے ایپ اسٹور میں جا کر واٹس ایپ کو سرچ کریں، اور اگر کوئی نیا ورژن دستیاب ہو تو اسے فوراً انسٹال کریں تاکہ آپ محفوظ رہ سکیں۔

4) مشکوک پیغامات سے ہوشیار رہیں

اکثر ہیکرز جعلی پیغامات یا لنکس کے ذریعے صارفین کو دھوکہ دیتے ہیں۔ یہ پیغامات بظاہر کسی بینک، کمپنی یا جاننے والے کی جانب سے آ سکتے ہیں اور صارف کو تصدیقی کوڈ یا ذاتی معلومات فراہم کرنے پر اکساتے ہیں۔ ایسے کسی بھی پیغام پر کلک کرنا یا معلومات فراہم کرنا سخت خطرناک ہو سکتا ہے۔ ہمیشہ تصدیق کریں کہ پیغام واقعی کسی معتبر ذریعہ سے آیا ہے، اور کسی بھی حالت میں اپنے واٹس ایپ کوڈ کو کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں۔

5) ویب واٹس ایپ سے لاگ آؤٹ کرنا نہ بھولیں

واٹس ایپ ویب ایک کارآمد سہولت ہے، مگر یہ آپ کی حفاظت کے لئے خطرہ بھی بن سکتی ہے.

جب بھی آپ ویب واٹس ایپ استعمال کریں، ہمیشہ سیشن ختم ہونے پر لاگ آؤٹ کرنا یاد رکھیں۔ اس کے علاوہ وقتاً فوقتاً “لنکڈ ڈیوائسز” کے سیکشن میں جا کر چیک کریں کہ آپ کا اکاؤنٹ کسی اجنبی ڈیوائس سے تو منسلک نہیں ہے۔ اگر کسی ناواقف ڈیوائس کا اندراج ہو تو فوراً اسے ہٹا دیں۔

6) سوشل میڈیا پر ذاتی معلومات کا محدود اشتراک

اکثر لوگ اپنے سوشل میڈیا پروفائلز پر ذاتی معلومات کھلے عام شیئر کرتے ہیں، جیسے کہ موبائل نمبر، مقام، یا خاندان کی تفصیلات۔ یہ معلومات ہیکرز کے لیے ایک سنہری موقع فراہم کرتی ہیں۔ اس لیے اپنی پرائیویسی سیٹنگز کا جائزہ لیں اور انہیں اس حد تک محدود رکھیں کہ صرف قریبی افراد ہی آپ کی معلومات دیکھ سکیں۔ خاص طور پر واٹس ایپ نمبر کو عوامی سطح پر شیئر کرنے سے گریز کریں۔

7) موبائل ایپس کو بلاوجہ رسائی نہ دیں

بہت سی ایپلیکیشنز بلاوجہ واٹس ایپ ڈیٹا تک رسائی مانگتی ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ آپ موبائل کی سیٹنگز میں جا کر ایپ پرمیشنز کا جائزہ لیں اور صرف انہی ایپلیکیشنز کو اجازت دیں جن پر آپ کو مکمل اعتماد ہو۔ غیر معروف ایپس یا تھرڈ پارٹی ٹولز، جو واٹس ایپ کی کارکردگی بڑھانے کے دعوے کرتی ہیں، اکثر سیکیورٹی کے لیے خطرناک ثابت ہوتی ہیں۔

8) ذاتی اور پیشہ ورانہ نمبرز کی علیحدگی

اگر ممکن ہو تو ایک نمبر کو صرف ذاتی استعمال کے لیے مختص کریں اور دوسرا نمبر پیشہ ورانہ مقاصد کے لیے رکھیں۔ اس حکمت عملی سے نہ صرف آپ کی پرائیویسی برقرار رہتی ہے بلکہ اگر کسی اکاؤنٹ پر حملہ ہو بھی جائے تو دوسرا اکاؤنٹ متاثر نہیں ہوتا۔ یہ طریقہ خاص طور پر صحافیوں، سرکاری افسران اور سوشل میڈیا صارفین کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

9) ہیک شدہ اکاؤنٹس کا فوری سدباب

اگر آپ کو شک ہو کہ آپ کا واٹس ایپ اکاؤنٹ ہیک ہو گیا ہے تو فوراً کارروائی کریں۔ ایف آئی اے کی سائبر کرائم ونگ کی ویب سائٹ پر جا کر شکایت درج کریں، یا قریبی سائبر کرائم دفتر سے رابطہ کریں۔ شکایت کی بروقت رجسٹریشن آپ کی معلومات کو مزید نقصان سے بچا سکتی ہے اور تحقیقات میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

10) احتیاط ہی تحفظ ہے

واٹس ایپ ہیکنگ کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر یہ ہر صارف کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی معلومات کی حفاظت کو سنجیدگی سے لے۔ اپنی روزمرہ عادات میں تھوڑی سی احتیاط شامل کر کے نہ صرف آپ اپنے اکاؤنٹ کو محفوظ بنا سکتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی محفوظ رہنے کی ترغیب دے سکتے ہیں۔ سکیورٹی کوئی ایک بار کا عمل نہیں بلکہ ایک مسلسل طرزِ زندگی ہے، جسے اپنانا ہم سب کے لیے ضروری ہو چکا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: ذاتی معلومات سوشل میڈیا واٹس ایپ اکاو نٹ کے لیے اپ ڈیٹ

پڑھیں:

بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔

ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • بلاول کل چلاس جبکہ آصفہ بھٹو ہنزہ میں خطاب کریں گی
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری