رہنما پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی کو دل کی تکلیف، جیل سے پی آئی سی لاہور منتقل
اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما شاہ محمود قریشی کو دل کی تکلیف کے باعث جیل سے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیولوجی (پی آئی سی) لاہور منتقل کردیا گیا۔
نجی ٹی وی کے مطابق رہنما پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی کو نماز فجر کے بعد پی آئی سی منتقل کیا گیا، طبیعت بگڑنے پر ابتدائی طور پر جیل کے ڈاکٹر نے شاہ محمود قریشی کا معائنہ کیا، اور ہسپتال منتقل کرنے کی سفارش کی۔
جیل حکام نے ڈاکٹر کی سفارش پر شاہ محمود قریشی کونماز فجر کے بعد پی آئی سی منتقل کیا، حالت نہ سنبھلنے پر ہسپتال لے جایا گیا۔
وکیل رانا مدثر کا کہنا ہے کہ پی آئی سی میں شاہ محمود قریشی کے مختلف ٹیسٹ جا ری ہیں، ان کی حالت پہلے سے بہتر ہے، تاہم ابھی ڈاکٹرز کی جانب سے کچھ نہیں بتایا گیا، رپورٹس آنے پر کچھ معلومات مل سکیں گی، کہ دل میں کیا تکلیف ہوئی ہے۔
شاہ محمود کیوں گرفتار ہیں؟
یاد رہے کہ گزشتہ برس 9 مئی کو 190 ملین پاؤنڈ یا القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کی اسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطے سے گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کی طرف سے ملک گیر احتجاج کیا گیا تھا۔
اس دوران لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں 9 مئی کو مسلم لیگ (ن) کے دفتر کو جلانے کے علاوہ فوجی، سول اور نجی تنصیبات کو نذر آتش کیا گیا، سرکاری و نجی املاک کو شدید نقصان پہنچایا گیا تھا جب کہ اس دوران کم از کم 8 افراد ہلاک اور 290 زخمی ہوئے تھے۔
مظاہرین نے لاہور میں کور کمانڈر کی رہائش گاہ پر بھی دھاوا بول دیا تھا جسے جناح ہاؤس بھی کہا جاتا ہے اور راولپنڈی میں واقع جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو)کا ایک گیٹ بھی توڑ دیا تھا۔
اس کے بعد ملک بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ لڑائی، توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث 1900 افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا، جب کہ عمران خان اور ان کی پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے تھے۔
شاہ محمو دقریشی کے مقدمات بھی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، انہوں نے 9 مئی کے حوالے سے عائد کی گئی فرد جرم کو بھی چیلنج کر رکھا ہے۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: شاہ محمود قریشی کو کے بعد
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.