وزیراعظم شہباز شریف اور فلسطین کے صدر محمود عباس کی ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
سٹی42: شرم الشیخ میں منعقدہ امن سربراہ اجلاس کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف اور فلسطین کے صدر محمود عباس کی ملاقات ہوئی ہے۔
اس انتہائی خوشگوار ملاقات میں بحرین کے فرمانروا شاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ بھی گفتگو میں شریک تھے.
فلسطین کے صدر محمود عباس نے فلسطینیوں کا ہمیشہ سے ساتھ دینے اور فلسطین کی سیاسی اور سفارتی محاذ پر مدد کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا.
سیمنٹ سستاہوگیا
دونوں رہنماؤں کی شرم الشیخ میں جنگ بندی معاہدے پر دستخط ہونے سے پہلے گرمجوشی سے غیر رسمی ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان گفتگو میں ایک دوسرے کے لئے خیرسگالی جذبات کا اظہار کیا گیا اور امن معاہدے، فلسطین کے روشن مستقبل اور مشرق وسطیٰ کے مجموعی امن و استحکام پر بات چیت ہوئی.
فلطسین اور پاکستان کے رہنماؤں نے اس موقع پر کہا کہ فلسطین اور پاکستان کے مابین دیرینہ برادرانہ تعقات مثالی ہیں جس پر دونوں ممالک کی قیادت اور عوام کو ناز ہے.
نادرا کی جانب سے شہریوں کیلئے نئی سہولت
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے غزہ کےعوام کو گزشتہ برسوں میں ہمت و بہادری سے صعوبتیں برداشت کرنے پر خراج تحسین پیش کیا. دونوں رہنماؤں نے غزہ میں جنگ بندی پر اطمینان کا اظہار کیا اور اسے خطے میں امن اور فلسطینیوں کی ترقی کا پیش خیمہ قرار دیا.
Waseem Azmet
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔