اسلامیہ کالج پشاور؛ ہراسگی کیس میں پروفیسر کی برطرفی کے بعد دیگر اساتذہ کیلیےضابطہ اخلاق جاری
اشاعت کی تاریخ: 18th, May 2025 GMT
پشاور:
اسلامیہ کالج پشاور میں ہراسگی کیس کے الزام میں پروفیسر کی برطرفی کے بعد انتظامیہ نے دیگر فیکلٹی ممبران کے لیے نیا ضابطہ اخلاق جاری کرتے ہوئے اساتذہ کو طلبہ و طالبات کے ساتھ رومانی یا غیر مناسب تعلقات سے باز رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
جاری کردہ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ اساتذہ کو اپنی تدریسی اور پیشہ ورانہ حدود میں رہتے ہوئے ذمہ داریاں ادا کرنی ہوں گی اور کسی بھی قسم کی غیر اخلاقی یا غیر پیشہ ورانہ سرگرمی ناقابل قبول ہوگی۔
کالج انتظامیہ کے مطابق ایسے واقعات ادارے کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں، ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
یہ اقدام ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب گزشتہ روز اسلامیہ کالج پشاور کے ایک اسسٹنٹ پروفیسر کو ایک طالبہ کی جانب سے ہراسگی کے الزامات کے بعد ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک