بیجنگ :
چینی وزارت خارجہ کی ترجمان نے 78 ویں ورلڈ ہیلتھ اسمبلی میں تائیوان سے متعلق تجویز کو مسترد کرنے پر ایک بیان جاری کیا ہے۔پیر کے روز چینی میڈ یا نے بتا یا کہ
78 ویں ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کی جنرل کمیٹی اور کل رکنی سیشن نے اسمبلی کے ایجنڈے میں انفرادی ممالک کی جانب سے پیش کردہ “تائیوان کو ورلڈ ہیلتھ اسمبلی میں بطور مبصر شرکت کی دعوت دینے” کی نام نہاد تجویز کو واضح طور پر مسترد کرنے کا فیصلہ کیا، جو مسلسل نواں سال ہے جب ورلڈ ہیلتھ اسمبلی نے نام نہاد تائیوان سے متعلق تجویز کو مسترد کیا ہے۔
عالمی ادارہ صحت سمیت بین الاقوامی تنظیموں کی سرگرمیوں میں تائیوان کی شرکت کے معاملے پر چین کا موقف مستقل اور واضح ہے، یعنیٰ اسے ایک چین کے اصول کے تناظر میں دیکھا جائے ، جو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد 2758 اور ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کی قرارداد 25.

1 میں طے شدہ بنیادی اصول بھی ہے۔
چین کی مرکزی حکومت تائیوان کے ہم وطنوں کی صحت اور فلاح و بہبود کو بہت اہمیت دیتی ہے۔ ایک چین کے اصول کی بنیاد پر ، چینی مرکزی حکومت تائیوان کو ڈبلیو ایچ او کے متعلقہ تکنیکی اجلاسوں میں شرکت کی اجازت دیتی ہے۔ انٹرنیشنل ہیلتھ ریگولیشنز کے فریم ورک کے تحت، تائیوان خطے اور ڈبلیو ایچ او اور دیگر ممالک کے درمیان معلومات کے تبادلے کا طریقہ کار ہموار اور جامع ہے۔اس سے بالکل واضح ہوتا ہے کہ چینی مرکزی حکومت تائیوان کے ہم وطنوں کے لئے صحت کے مسائل کو حل کرنے میں مخلص ہے، اور یہ کہ تائیوان کے لوگوں کے صحت کے حق کی ضمانت موجود ہے.

Post Views: 3

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی

فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔

کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔

کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔

حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔

اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔

 

متعلقہ مضامین

  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن