کراچی:

بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری کی انتظامیہ نے یونیورسٹی کی سینیئر پوزیشن پر کام کرنے والے اکاؤنٹ افسر عبدالرشید ملاح کو ہراسانی کے الزام میں معطل کردیا ہے اور تاحکم ثانی ان کے کیمپس میں داخلے پر پابندی عائد کر دی۔

یونیورسٹی کے رجسٹرار کی جانب سے اس سلسلے میں پیر کی دوپہر کو باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے، بتایا جارہا ہے کہ عبدالرشید ملاح کی ہراسانی کے الزام میں معطلی کا فیصلہ پیر کی صبح لیاری یونیورسٹی کی منعقدہ سینڈیکیٹ کے اجلاس میں کیا گیا تھا۔

 عبدالرشید ملاح پر ایک طالبہ کو موبائل فون اپلیکیشن کے ذریعے میسجز پر ہراساں کرنے کا الزام تھا جس کی باقاعدہ شکایت متعلقہ طالبہ کی جانب سے کی گئی تھی۔

 یونیورسٹی انتظامیہ کا آفیشل موقف ہے کہ اس سلسلے میں ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کے افسر کی کنوینر شپ میں بنائی گئی تھی جس نے دستیاب حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا تھا کہ یا تو یونیورسٹی رولز کے تحت ان کے خلاف کارروائی کی جائے یا پھر معاملے کو محتسب کو بھجوایا جائے جس کے بعد اس سلسلے میں محتسب سے رابطہ کیا گیا جس پر محتسب کی رائے کے ضمن میں معاملے کو یونیورسٹی کی سینڈیکیٹ میں پیش کیا گیا جہاں مذکورہ فیصلہ کیا گیا۔

علاوہ ازیں پیر کو یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر حسین مہدی کی زیر صدارت منعقدہ سینڈیکیٹ میں ایک فیکلٹی غلام مرتضی لہبر کی تنزلی کے معاملے کو بھی رپورٹڈ آئٹم کے طور پر پیش کیا گیا۔

سینڈیکیٹ کو بتایا گیا کہ مذکورہ استاد کی تنزلی کرکے ان کو لیکچرر بنادیا گیا ہے کیونکہ ان کی جانب سے پی ایچ ڈی کورسز کے ایک مساوی سرٹیفکیٹ کو پی ایچ ڈی کی ڈگری کے طور پر پیش کیا گیا اور اس بنیاد پر انہیں ایڈہاک اسسٹنٹ پروفیسر بناکر متعلقہ عہدے کی مراعات دی جاتی رہی جو اب یونیورسٹی ان سے وصول کرے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کیا گیا

پڑھیں:

مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی

سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔

فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔

حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔

ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘

ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔

یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟