لیاری یونیورسٹی؛ ہراسانی کے الزام میں اعلی افسر معطل، کیمپس آنے پر پابندی، نوٹیفکیشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT
کراچی:
بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری کی انتظامیہ نے یونیورسٹی کی سینیئر پوزیشن پر کام کرنے والے اکاؤنٹ افسر عبدالرشید ملاح کو ہراسانی کے الزام میں معطل کردیا ہے اور تاحکم ثانی ان کے کیمپس میں داخلے پر پابندی عائد کر دی۔
یونیورسٹی کے رجسٹرار کی جانب سے اس سلسلے میں پیر کی دوپہر کو باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے، بتایا جارہا ہے کہ عبدالرشید ملاح کی ہراسانی کے الزام میں معطلی کا فیصلہ پیر کی صبح لیاری یونیورسٹی کی منعقدہ سینڈیکیٹ کے اجلاس میں کیا گیا تھا۔
عبدالرشید ملاح پر ایک طالبہ کو موبائل فون اپلیکیشن کے ذریعے میسجز پر ہراساں کرنے کا الزام تھا جس کی باقاعدہ شکایت متعلقہ طالبہ کی جانب سے کی گئی تھی۔
یونیورسٹی انتظامیہ کا آفیشل موقف ہے کہ اس سلسلے میں ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کے افسر کی کنوینر شپ میں بنائی گئی تھی جس نے دستیاب حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا تھا کہ یا تو یونیورسٹی رولز کے تحت ان کے خلاف کارروائی کی جائے یا پھر معاملے کو محتسب کو بھجوایا جائے جس کے بعد اس سلسلے میں محتسب سے رابطہ کیا گیا جس پر محتسب کی رائے کے ضمن میں معاملے کو یونیورسٹی کی سینڈیکیٹ میں پیش کیا گیا جہاں مذکورہ فیصلہ کیا گیا۔
علاوہ ازیں پیر کو یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر حسین مہدی کی زیر صدارت منعقدہ سینڈیکیٹ میں ایک فیکلٹی غلام مرتضی لہبر کی تنزلی کے معاملے کو بھی رپورٹڈ آئٹم کے طور پر پیش کیا گیا۔
سینڈیکیٹ کو بتایا گیا کہ مذکورہ استاد کی تنزلی کرکے ان کو لیکچرر بنادیا گیا ہے کیونکہ ان کی جانب سے پی ایچ ڈی کورسز کے ایک مساوی سرٹیفکیٹ کو پی ایچ ڈی کی ڈگری کے طور پر پیش کیا گیا اور اس بنیاد پر انہیں ایڈہاک اسسٹنٹ پروفیسر بناکر متعلقہ عہدے کی مراعات دی جاتی رہی جو اب یونیورسٹی ان سے وصول کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کیا گیا
پڑھیں:
اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
اٹلی(نیوز ڈیسک)اطالوی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اٹلی میں پولیس نے دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے جو ایک جلی ہوئی منی وین میں مردہ پائے گئے تھے۔
گاڑی جنوبی کلابریا کے علاقے میں ایک وسیع کھیتی کے علاقے میں ایک گاؤں کے قریب ایک پٹرول اسٹیشن سے ملی۔
سی سی ٹی وی امیجز میں دیکھا گیا کہ دو افراد وین کے دروازے باہر سے روک رہے ہیں اور آگ لگانے کے لیے اندر مائع پھینک رہے ہیں۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس علاقے میں حالیہ مہینوں میں پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو نذر آتش کرنے کے 14 واقعات ہوئے ہیں، جہاں فارم کے کام اور رہائش کی تقسیم پر تارکین وطن کے درمیان تناؤ پایا جاتا ہے۔
فائر فائٹرز کو منگل کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً 13:00 بجے (11:00 GMT) جلتی ہوئی وین کے مقام پر بلایا گیا۔
شعلوں کو بجھانے کے بعد انہوں نے اندر سے چار جلی ہوئی لاشوں کی بھیانک دریافت کی۔
دونوں مشتبہ افراد کو بعد میں سی سی ٹی وی فوٹیج کے شواہد کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا۔
اطالوی میڈیا کا کہنا ہے کہ افغانستان سے تعلق رکھنے والا پانچواں شخص حملے میں بچ گیا ہے۔ ان کے حوالے سے بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والوں میں تین افغان اور ایک پاکستانی شامل ہے، جو تمام زراعت کا کام کرتے تھے۔
زندہ بچ جانے والے شخص نے اطالوی میڈیا کو بتایا کہ وہ ایک کھڑکی توڑ کر جلتی ہوئی کار سے بچ نکلا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ دونوں گرفتار افراد کی جانب سے گاڑی میں سوار افراد سے ٹرانسپورٹیشن کی رقم کا مطالبہ کرنے کے بعد تنازعہ پیدا ہوا تھا، جسے انہوں نے دینے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مزدوروں کو علاقے کے اسٹرابیری کے کھیتوں میں ان کے کام کی ادائیگی نہیں کی گئی، حالانکہ انہیں کھانا اور رہائش فراہم کی گئی تھی۔
ان ہلاکتوں نے اٹلی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کلابریا کے علاقائی صدر، روبرٹو اوچیوٹو نے کہا کہ حملے کی خبر “انسانیت پر یقین کو متزلزل کرتی ہے”، اور مزید کہا کہ یہ “غیر انسانی” ہے۔
اس دوران CGIL یونین کے حوالے سے اٹلی کی انسا نیوز ایجنسی نے “ہمارے دیہی علاقوں میں مزدوروں، اکثر تارکین وطن کی طرف سے برداشت کی جانے والی روزمرہ کی زندگی کی گھناؤنی حرکتوں کا مقابلہ کرنے” کے لیے کارروائی کا مطالبہ کیا۔