کراچی میں بیٹی کو اسکول چھوڑنے کیلیے آئے شہری کے قتل میں بہنوئی ملوث نکلا
اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT
کراچی:
شہر قائد کے علاقے ناظم آباد میں بیٹی کو اسکول چھوڑنے کے دوران اسٹیٹ ایجنٹ کو فائرنگ کر کے قتل کرنے کا کیس پولیس نے حل کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کرلیا، جس میں بہنوئی اور سگا بھائی شامل ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پولیس نے بیٹی کو اسکول چھوڑنے کے دوران اسٹیٹ ایجنٹ کو فائرنگ کا نشانہ بنانے والے مرکزی ملزم کو بھائی سمیت گرفتار کرلیا۔
تفصیلات کے مطابق 14 مئی کی صبح ناظم آباد 3 نمبر گول مارکیٹ میں قائم پائلٹ اسکول کے قریب 14 مئی کی صبح بیٹی کو اسکول چھوڑنے آنے والے راشد کو موٹر سائیکل سوار ملزم نے فائرنگ کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا تھا جبکہ مقتول کی آنکھ کے قریب لگنے والی گولی پار ہو کر اس کی 10 سالہ بیٹی آمنہ کے سر پر لگی جسے کی باعث وہ شدید زخمی ہوگئی تھی اور تاحال زیر علاج ہے۔
واقعے کے بعد ڈی ایس پی ناظم آباد کمال نسیم اور ایس ایچ او ناظم آباد امجد کیانی موقع پر پہنچے اور کلوز سرکٹ کیمروں کی فوٹیجز حاصل کیں جس میں سفید داڑھی والے شخص کو اسکول کے قریب موٹر سائیکل پر گھومتا ہوا دیکھا گیا۔
فوٹیج میں اس مشکوک شخص کی دوسرے شہری سے بھی ملاقات ہوئی اور ان کے درمیان بات چیت بھی ہوئی تھی۔
ایس ایچ او ناظم آباد امجد کیانی بتایا کہ واقعے کے بعد ڈی ایس پی ناظم آباد کی سربراہی تشکیل دی گئی، ٹیم نے دن رات سخت جدوجہد کے بعد اسٹیٹ ایجنٹ راشد کے قتل میں ملوث مرکزی ملزم اقبال ملنگ کو اس کے بھائی شاہد سمیت گرفتار کر کے اسلحہ برآمد کرلیا۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزم اقبال ملنگ نے واردات کے بعد اپنی داڑھی کو سیاہ کر کے اپنا حلیہ بھی تبدیل کرلیا تھا تاہم پولیس نے تمام شواہد کو حاصل کرنے کے بعد ملزم کو قانون کی گرفتار میں لیا۔
امجد کیانی نے بتایا کہ گرفتار ملزمان نے ابتدائی تفتیش میں قتل کی وجہ 15 لاکھ روپے کی لین دین کا تنازعہ بتایا جبکہ گرفتار ملزم شاہد مقتول راشد کا بہنوئی ہے اور اس لین دین کے تنازعے میں شاہد نے مقتول کی بہن کو طلاق بھی دیدی تھی جس کے بعد وہ بچوں سمیت والدین کے گھر آگئی تھی۔
انھوں نے بتایا کہ ملزمان نے انکشاف کیا ہے کہ لیاری کشتی چوک کے قریب انھوں نے اپنا گھر 15 لاکھ روپے میں فروخت کر کے راشد کو دیئے تھے کہ ہمیں پورشن دلوا دیں اور اس رقم کی وصولی کے بعد وہ ٹال مٹول سے کام لیتا رہا اور اس دوران ان میں جھگڑے بھی چلتے رہے اور اس وجہ سے شاہد نے مقتول کی بہن کو طلاق بھی دیدی تھیْ
فائرنگ میں ملوث ملزم اقبال ملنگ کا کہنا تھا کہ بیوی کو طلاق دینے کے بعد اس کا بھائی پریشان رہتا تھا اور اسی وجہ سے اس نے راشد کو ٹھکانے لگانے کا منصوبہ بنایا ، اس کی ریکی بھی کرتا رہا اور موقع ملنے پر اسے فائرنگ کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے قریب کے بعد اور اس
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم