بھارتی سپانسرڈ فتنہ الخوارج معصوم بچوں کو انسانی ڈھال بنانے لگے، ویڈیو منظرعام پر
اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT
بھارتی پشت پناہی سے سرگرم فتنہ الخوارج نے اپنی بزدلانہ کارروائیوں میں ایک نیا مکروہ حربہ اختیار کرلیا ہے، جس کے تحت معصوم بچوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے ایک ویڈیو فوٹیج بھی منظر عام پر آ گئی ہے جس میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح معصوم بچوں کو دہشتگردانہ مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ خوارج معصوم بچوں کو ڈھال بنا کر سیکیورٹی فورسز پر حملے کر رہے ہیں، جو ان کی بزدلی اور انتہاپسندی کا واضح ثبوت ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں متعدد دہشتگردانہ حملوں میں نہ صرف بے گناہ بچے جاں بحق اور زخمی ہوئے بلکہ سیکیورٹی فورسز کو بدنام کرنے کی بھی مذموم کوشش کی گئی۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی سپانسپرڈ فتنہ الخوارج معصوم شہریوں کو نشانہ بنا کر سارا الزام سیکیورٹی فورسز پر ڈالنے کی سازش کر رہا ہے۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ معصوم بچوں کو یرغمال بنا کر دہشتگردانہ حملوں میں بطور ڈھال استعمال کرنا ایک انتہائی مکروہ اور غیر انسانی فعل ہے، جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
بھارتی سپانسپرڈ فتنہ الخوارج کا مکروہ چہرہ ایک بار پھر بے نقاب
بھارتی سپانسپرڈ فتنہ الخوارج معصوم بچوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے لگی، سیکیورٹی ذرائع
بھارتی سپانسپرڈ فتنہ الخوارج کے مکروہ ہتھکنڈوں کی ویڈیو فوٹیج منظر عام پر آگئی، سکیورٹی ذرائع
مذکورہ ویڈیو میں… pic.
— PTV News (@PTVNewsOfficial) May 20, 2025
Post Views: 2
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: معصوم بچوں کو کہنا ہے کہ
پڑھیں:
والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
سوشل میڈیا کی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ’میٹا‘ نے دنیا بھر میں انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر استعمال کرنے والے کم عمر صارفین کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے سخت ترین پابندیوں کا باقاعدہ اطلاق کر دیا ہے۔ ان نئی پالیسیوں کا مقصد نوجوانوں کو نامناسب مواد اور آن لائن ہراسانی سے بچانا ہے۔
دنیا بھر میں نئی سیٹنگز کا فوری اطلاقکمپنی کی جانب سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر پر 13 سال سے زیادہ عمر کے ’ٹین ایج‘ اکاؤنٹس پر مواد کے حوالے سے نئی اور زیادہ سخت سیٹنگز لاگو کر دی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:میٹا نے واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹاگرام کے بامعاوضہ فیچرز متعارف کرا دیے
واضح رہے کہ ان سخت ترین سیکیورٹی فیچرز کو سب سے پہلے اکتوبر 2026 میں امریکا، آسٹریلیا، برطانیہ اور کینیڈا میں آزمائشی طور پر متعارف کرایا گیا تھا تاہم اب 2 جون سے اس کا دائرہ کار دنیا بھر کے تمام ممالک تک پھیلا دیا گیا ہے۔
نامناسب مواد اور سرچ رزلٹس پر مکمل بلاکنگنئی تبدیلیوں کے تحت اب کم عمر صارفین ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا مواد نہیں دیکھ سکیں گے اور نہ ہی انہیں فالو کر سکیں گے جو اکثر اور بیشتر غیر اخلاقی یا نامناسب مواد شیئر کرتے ہیں۔
میٹا کا کہنا ہے کہ ایسے تمام مشکوک اور غیر موزوں اکاؤنٹس کو 18 سال سے کم عمر صارفین کی تجاویز(ریکومینڈیشنز) اور تلاش کے نتائج (سرچ رزلٹس) میں مکمل طور پر بلاک کر دیا جائے گا تاکہ بچے ان تک پہنچ ہی نہ سکیں۔
الائس کمپنی کے ساتھ اشتراک اور سرچ پر پابندی’میٹا‘ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی مشہور عالمی تنظیم ’سیفٹی کمپنی الائس‘ کے ساتھ مل کر مستقبل میں بھی کم عمر صارفین سے متعلق نئے فیچرز کو تیار اور ٹیسٹ کرے گی۔
یاد رہے کہ اکتوبر میں جب انسٹاگرام پر اس سیٹنگ کا آغاز ہوا تھا، تو یہ واضح کیا گیا تھا کہ کم عمر صارفین کو مخصوص سرچ اصطلاحات، جیسے نشہ آور اشیا کے استعمال اور دیگر نقصان دہ موضوعات کو سرچ کرنے سے بھی سختی سے روک دیا جائے گا۔
’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ اور والدین کا کنٹرولسوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچوں کو محفوظ ماحول دینے کے لیے ’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ کا فیچر بھی متعارف کرایا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
اس فیچر کے تحت اب والدین کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ اپنے بچوں کو پلیٹ فارم پر کسی بھی تبصرے (کمنٹس) تک رسائی حاصل کرنے سے روک سکیں۔
یہاں تک کہ اس سیٹنگ کے فعال ہونے کے بعد کم عمر صارفین خود اپنی پوسٹس پر آنے والے کمنٹس کو بھی نہیں دیکھ سکیں گے، جس سے وہ کسی بھی قسم کی آن لائن ٹرولنگ یا منفی تبصروں سے محفوظ رہیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اشتراک الائس کمپنی انسٹاگرام بچوں بک پابندی سرچ سوشل میڈیا سیٹنگ عائد فیس فیس بک لمیٹڈ کانٹینٹ میٹا والدین