چودھری شجاعت کی ہدایت پر مسلم لیگی خواتین کا شہید عثمان یوسف کو خراجِ عقیدت، اہل خانہ سے ملاقات و تعزیت
اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT
چودھری شجاعت کی ہدایت پر مسلم لیگی خواتین کا شہید عثمان یوسف کو خراجِ عقیدت، اہل خانہ سے ملاقات و تعزیت WhatsAppFacebookTwitter 0 20 May, 2025 سب نیوز
اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ کے صدر وسابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین اور خواتین ونگ کی صدر و رکن قومی اسمبلی مسز فرخ خان کی ہدایت پر مسلم لیگ شعبہ خواتین کی جنرل سیکرٹری فوزیہ نازکی سربراہی میں خواتین نے راولپنڈی میں شہید اسکواڈرن لیڈر عثمان یوسف شہید کے رہائش گاہ کا دورہ کرکے فاتحہ پڑھی اور غمزدہ خاندان سے تعزیت کا اظہار کیا۔اس موقع پرآمنہ خانم، روبینہ بٹ اور دیگر خواتین بھی ہمراہ تھیں۔مسلم لیگی خواتین نے شہید اسکواڈرن لیڈر عثمان یوسف شہید کو بھرپور خراج عقیدت پیش کیا، جنہوں نے حالیہ بھارتی جارحیت کے دوران ایک حملے میں اپنے فرض کی ادائیگی کے دوران شہادت کا رتبہ حاصل کیا تھا۔
فوزیہ ناز نے وطن کے دفاع کے لیے شہید کی خدمات اور ان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیااور کہا کہ نے اللہ پاک آپ کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی ہمت دے۔ شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے۔ ہمارا ایمان ہے کہ موت تو بر حق ہے لیکن ایسی موت نصیب سے ملتی ہے۔
فوزیہ نا ز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ شہید کی والدہ شدید غمزدہ تھیں اور اپنے جواں سال بیٹے کی یادیں دہراتے ہوئے زار و قطار روتی رہیں، وفد نے اُنہیں تسلی دیتے ہوئے کہا کہ شہید زندہ ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ شہیدوں کو مردہ نہ کہو، وہ زندہ ہیں اور اپنے رب کے ہاں رزق پاتے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ ماؤں کے بیٹے جب وطن پر قربان ہوتے ہیں تو پوری قوم کی مائیں سکون سے سوتی ہیں، لیکن ماں کا دکھ تو ناقابلِ بیان ہوتا ہے۔
بعد ازاں وفد کی ملاقات شہید کی بیوہ اور دو کمسن بیٹیوں سے بھی کروائی گئی۔ بچیاں بار بار اپنے بابا کو پکارتی رہیں جس سے فضا مزید غمزدہ ہو گئی۔ شہید کی اہلیہ نے وفد کو بتایا کہ وہ خود اپنے شوہر کی میت لے کر راولپنڈی آئیں، اور وہ سفر ان کی زندگی کا سب سے بھیانک سفر تھا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرآئی ایم ایف مذاکرات: آئندہ مالی سال فی لیٹر پیٹرولیم لیوی 100 روپے سے زائد کرنے کی تجویز سی ڈی اے بورڈ ،، لینڈ ڈائریکٹوریٹ کا ڈھانچہ تبدیل کرنے کا فیصلہ ،بورڈ سے منظوری لیے جانے کا امکان،کون کونسی تبدیلیاں کی جائیں... پاکستان میں ٹرانسفر پر جج کی رضا مندی آئینی تقاضا ہے: آئینی بنچ ’چین پاکستان کا آئرن برادر‘: اسحاق ڈار سے ملاقات میں چینی کمیونسٹ پارٹی کے وزیر کا عزم فرانس نے اسمگل کیے گئے متعدد تاریخی نوادرات پاکستان کو واپس کردیئے اگر بھارت نے پانی روکا تو چینی ٹیکنالوجی سے بھارتی ڈیم تباہ کریں گے، محمد عارف پاکستان میں عیدالاضحیٰ کب ہوگی؟ ماہرین فلکیات نے متوقع تاریخ بتادی
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: عثمان یوسف
پڑھیں:
جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
بلوچستان سے رکن قومی اسمبلی جمال رئیسانی نے دعویٰ کیا ہے کہ کالعدم بلوچ عسکری تنظیموں اور بعض سماجی و سیاسی حلقوں کے درمیان روابط موجود ہیں، جبکہ خواتین اور کم عمر لڑکیوں کو مسلح سرگرمیوں میں شامل کرنا بلوچ روایات اور قبائلی اقدار کے منافی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی سرپرستی میں زہریلا پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمال رئیسانی نے کہا کہ کالعدم تنظیم بی ایل اے کے کمانڈر بشیر زیب کا نام مختلف واقعات میں سامنے آتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچ معاشرے کی روایات میں خواتین کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ انہوں نے سابق بلوچ رہنما اکبر بگٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نواب اکبر بگٹی نے بھی یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ بلوچ خواتین کو جنگ کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔
نواب اکبر بگٹی نے کہا تھا کہ ہم جنگ میں خواتین کو استعمال نہیں کریں گے، ہیروف 2 میں شامل خودکش حملہ آور اور کمانڈر شہناز تک تمام کے تانے بانے بی وائی سی سے ملتے ہیں، جمال رئیسانی
مکمل ویڈیو فیس بک پیج پرhttps://t.co/GB5kSKBy0R#Balochistan #Quetta pic.twitter.com/GLHj40tk43
— Daily Intekhab (@Intekhabhd) June 2, 2026
رکن قومی اسمبلی نے الزام عائد کیا کہ حالیہ برسوں میں بعض کم عمر لڑکیوں اور خواتین کو عسکری سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا گیا، جو بلوچ روایات کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض خودکش حملوں اور عسکری کارروائیوں میں خواتین کی شمولیت کے شواہد سامنے آئے ہیں، جس پر سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
جمال رئیسانی کا کہنا تھا کہ دشمن صرف ہتھیاروں کے ذریعے نہیں بلکہ سوشل میڈیا، ہیش ٹیگز، ویڈیوز اور پروپیگنڈا مہمات کے ذریعے بھی نوجوانوں کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک منظم نیٹ ورک مخصوص بیانیے کو فروغ دے کر نوجوان نسل کی سوچ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ بعض افراد اور گروہ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے کالعدم تنظیموں کے بیانیے کو تقویت دیتے ہیں۔ ان کے مطابق سیکیورٹی اداروں اور ریاستی اداروں کے پاس اس حوالے سے مختلف رپورٹس اور شواہد موجود ہیں جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
جمال رئیسانی نے کہا کہ حکومت دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف مؤثر قانون سازی اور اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے اور بلوچستان کے نوجوانوں کو تشدد کے راستے سے دور رکھنے کے لیے ریاستی سطح پر مختلف پروگرام بھی شروع کیے گئے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل سیاسی مکالمے، جمہوری عمل اور آئینی طریقہ کار میں مضمر ہے، جبکہ تشدد اور مسلح کارروائیاں نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کے امن اور استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران جمال رئیسانی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بعض حالیہ واقعات اور عسکری کارروائیوں میں ملوث افراد کے روابط مخصوص حلقوں سے ملتے ہیں، جن کی تحقیقات جاری ہیں۔ تاہم ان الزامات پر متعلقہ فریقین کا مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں