پاکستان کے معاشی اصلاحات کے پروگرام کے حوالے سے کچھ خبروں اور سوشل میڈیا پر جاری بحث و تمحیص کی جانب اشارہ کرتے ہوئے وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے واضح کیا ہے کہ آئی ایم ایف نے پاکستان پر کوئی نئی شرائط عائد نہیں کی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان آور آئی ایم ایف کے درمیان بجٹ مذاکرات پیر سے شروع ہوں گے

وزارت خزانہ کے بیان کے مطابق خرم شہزاد نے وضاحت کی نئی شرائط کوئی نہیں یہ وہی ہیں جن پر اس وقت اتفاق کیا گیا تھا جب پاکستان نے ستمبر 2024 میں اقتصادی اور مالیاتی پالیسیوں کی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہر قدم پروگرام کے ابتدائی مراحل میں طے کی گئی بنیادوں کے مطابق اٹھایا گیا۔

خرم شہزاد نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے 9 مئی 2025 کو 37 ماہ کے تحت پہلے جائزے کی منظوری دی۔ اس حوالے سے 7 بلین امریکی ڈالر کی توسیعی فنڈ سہولت اور 28 ماہ کے لیے 1.

4 بلین ڈالر کی منظوری دی گئی۔

خرم شہزاد نے وضاحت کی کہ EFF درمیانی مدت کے ڈھانچہ جاتی اصلاحات کو سپورٹ کرتا ہے اور ہر جائزہ منطقی اگلے اقدامات کا اضافہ کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ معیارات حیران کن نہیں ہیں۔

انہوں نے مثال کے ذریعے واضح کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم اسٹاف معاہدے کے مطابق مالی سال 2026 کے بجٹ کی پارلیمانی منظوری جی ڈی پی کے 2 فیصد کے بنیادی سرپلس کو حاصل کرنے کی جانب ہمارا دوسرا قدم ہے جبکہ پہلا قدم مالی سال 2025 کا بجٹ تھا جس کا ہدف ایک فیصد سرپلس تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ نئے AIT قوانین کو لاگو کرنے پر SB وفاقی ٹیکس قوانین کے ساتھ صوبائی AIT رجیموں کی پیشگی صف بندی پر استوار ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ گورننس ایکشن پلان کی اشاعت گورننس اور کرپشن کی تشخیصی تشخیص کو شائع کرنے کا ایک فالو اپ ہے اور کیپٹو پاور لیوی آرڈیننس کو کیپٹو پاور ٹرانزیشن لیوی کے متعارف ہونے کے بعد مستقل بنایا گیا۔

مزید پڑھیے: کیا آئی ایم ایف کی 11 نئی شرائط سے عوام کی مالی مشکلات میں اضافہ ہوگا؟

خرم شہزاد نے کہا کہ کفالت کیش ٹرانسفرز کا سالانہ افراط زر کا اشاریہ ایک مسلسل بینچ مارک ہے جو پہلے ہی جنوری 2025 میں نافذ کیا گیا تھا اور سنہ 2026 کے لیے اس کا اعادہ کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس کے ٹیرف کے نوٹیفکیشن لاگت کی وصولی اور گردشی قرضوں میں اضافے کو روکنے کے لیے مسلسل اقدامات ہیں۔

حالیہ متعارف کرائے گئے نئے معیارات کے حوالے سے خرم شہزاد نے کہا کہ حالیہ آئینی ترمیم اور حکومت کی توانائی کے شعبے میں اصلاحات کی حکمت عملی سمیت پوسٹ 2027 فنانشل سیکٹر حکمت عملی شائع کرنے کا منصوبہ اور قرض سروس سرچارج کی حد کو ہٹانے کا اقدام نئے حقائق پر مبنی ہے۔

دیگر اصلاحات میں سنہ 2035  تک اسپیشل ٹیکنالوجی زونز اور صنعتی پارکوں میں مراعات کو ختم کرنا تاکہ ایک برابری کے میدان کو یقینی بنایا جا سکے، تجارتی رکاوٹوں کو کم کرنے کے لیے استعمال شدہ کاروں کی درآمدات پر سے پابندیاں ہٹانا شامل ہیں۔

خرم شہزاد نے کہا کہ یہ اقدامات معاشی اصلاحات اور شفافیت کے لیے پاکستان کے مستحکم اور خودمختار عزم کی عکاسی کرتے ہیں، نہ کہ بیرونی طور پر عائد کردہ مطالبات کی وجہ سے ہیں۔

انہوں نے تصدیق کی کہ باقی 13 اقدامات اس سہولت کے تحت آتے ہیں جسے آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے بھی منظور کیا ہے۔

دفاعی اخراجات کے بارے میں حالیہ بحث و تمحیص کے حوالے سے خرم شہزاد نے واضح کیا کہ آئی ایم ایف کی اسٹاف رپورٹ میں 2.414 ٹریلین روپے کے دفاعی بجٹ کا حوالہ دیا گیا ہے جو کہ ایک قطعی تخمینہ ہے۔ تاہم اگر کوئی جدول 4b کا حوالہ دے تو یہ واضح ہے کہ دفاعی اخراجات مالی سال 25 سے اب تک جی ڈی پی کے 1.9 فیصد پر برقرار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مختص جی ڈی پی کے تناسب میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی ہے۔

آئی ایم ایف کے دستاویزات میں پاک بھارت کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے خرم شہزاد نے ایک متوازن نقطہ نظر پیش کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف کی رپورٹ علاقائی تناؤ کی ممکنہ خطرے کے طور پر نشاندہی کرتی ہے جیسا کہ اس طرح کے جائزوں میں رواج ہے لیکن اس میں یہ بھی نوٹ کیا گیا ہے کہ مارکیٹ کا ردعمل معمولی رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ نے اپنے زیادہ تر حالیہ فوائد کو برقرار رکھا ہے اور مالیاتی پھیلاؤ صرف معتدل طور پر وسیع ہوا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کھربوں ڈالرز کے معدنی ذخائر سے مستفید ہو کر آئی ایم ایف کو خیرباد کہہ سکتا ہے، وزیراعظم شہباز شریف

خرم شہزاد نے کہا کہ ہم اسے پاکستان کے میکرو اکنامک راستے پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کی عکاسی کے طور پر دیکھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں پڑوسیوں و دیگر کے ساتھ تعمیری سفارتی اور اقتصادی مشغولیت ضروری ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ہم استحکام اور ذمہ دارانہ طرز حکمرانی کو جاری رکھیں گے جو ملک اور خطے کے لیے یکساں طور پر طویل مدتی ترقی کے لیے مددگار ثابت ہوگا۔

واضح رہے کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے توسیعی فنڈ سہولت کے تحت 7 ارب ڈالر کی منظوری دی تھی جسے ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اس منظور شدہ رقم میں سے پاکستان کو اب تک تقریباً 2.1 ارب ڈالر کی 2 قسطیں موصول ہو چکی ہیں۔ معاہدے کے لگائی گئیں شرائط نئی نہیں ہیں بلکہ ہر 6 ماہ بعد قسط جاری ہونے سے قبل ہونے والے جائزے کا حصہ ہیں۔ پاکستان کو آئندہ قسط رواں سال اکتوبر یا نومبر میں ملنے کی توقع ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آئی ایم ایف آئی ایم ایف کی شرائط خرم شہزاد

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف ا ئی ایم ایف کی شرائط انہوں نے مزید کہا کہ خرم شہزاد نے کہا کہ ئی ایم ایف کے ئی ایم ایف کی ا ئی ایم ایف آئی ایم ایف کہ ا ئی ایم پاکستان کے کرتے ہوئے حوالے سے کیا گیا ڈالر کی کے لیے

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ