data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

برسلز (انٹرنیشنل ڈیسک) یورپ شدید ترین گرمی کی لپیٹ میں آ گیاجس نے کئی ممالک میں معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ فرانس نے تقریباً 1900 اسکول بند کر دیے ،جب کہ اٹلی میں دوپہر کے اوقات میں باہر کام کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ۔ ترکیہ میں جاری جنگلاتی آگ کے باعث ہزاروں افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی۔ خبررساں اداروں کے مطابق فرانس میں درجہ حرارت 40 سے 41 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا ہے، جبکہ اسپین نے جون کا سب سے گرم مہینا ریکارڈ کیا گیاہے۔ یورپی یونین کے موسمیاتی ادارے کا کہنا ہے کہ یورپ دنیا کا سب سے تیزی سے گرم ہونے والا براعظم بن چکا ہے، جہاں درجہ حرارت دنیا کے اوسط سے د گنا زیادہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اٹلی کے شہر بولونیا میں گرمی کے باعث ایک مزدور کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ سسلی میں دل کی مریضہ خاتون گرمی سے چل بسی۔ بارسلونا میں صفائی کے دوران ایک کارکن کی موت کی تحقیقات کی جا رہی ہے کہ آیا وہ بھی گرمی سے متاثر ہوا تھا یا نہیں۔ ترکیہ کے شہر ازمیر، مانیسا اور ہاتائے کے مختلف علاقوں میں لگی آگ نے 50ہزار سے زائد افراد کو متاثر کیا ہے۔ فائر بریگیڈ کی ٹیمیں مسلسل کام کر رہی ہیں۔ پیرس میں ایفل ٹاور کی بالائی منزل بند کر دی گئیں، جبکہ پیرس میلان ریل سروس کو مٹی کے تودے گرنے کی وجہ سے جزوی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ کاشت کارر رات کے وقت فصلیں کاٹنے پر مجبور ہیں تاکہ دن کے سخت گرم اوقات سے بچ سکیں۔ فرانس میں شدید گرمی کے باعث فصلوں کو آگ لگنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ اس بار کی گرمی غیرمعمولی ہے ۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی

سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔

فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔

حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔

ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘

ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔

یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • بلاول کل چلاس جبکہ آصفہ بھٹو ہنزہ میں خطاب کریں گی
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی