نیویارک: بندرگاہ کے قریب دو بسیں ٹکرا گئیں، 14 افراد زخمی، آمدورفت متاثر
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
نیویارک : بندرگاہ کے قریب واقع بس ٹرمینل پر دو مسافر بسوں کے درمیان خوفناک تصادم کے نتیجے میں 14 افراد زخمی ہوگئے، جنہیں فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کردیا گیا۔امریکی میڈیا کے مطابق حادثہ جمعرات کی صبح پیش آیا، جب بندرگاہ کے قریب موجود دو بسیں آپس میں ٹکرا گئیں۔ پولیس اور ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کیں۔حکام نے حفاظتی اقدامات کے تحت بندرگاہ کو عارضی طور پر بند کردیا ہے، جب کہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں سے بیشتر کی حالت خطرے سے باہر ہے، تاہم ایک دو افراد کو تشویشناک حالت میں اسپتال لے جایا گیا۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔