ڈیجیٹائیزیشن اور نظام کو خود کار بنانے کیلئے اقدامات تیزی سے جاری ہیں، 70 برس کا بگاڑ ٹھیک کرنے کیلئے سخت اقدامات ضروری ہیں
ٹیکس دینے والے افراد اور کاروبار کو زیادہ سے زیادہ سہولیات دیں گے، شہباز شریف کی ایف بی آر جائزہ اجلاس میں گفتگو
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ٹیکس چوری کرنے والے افراد اور کاروبار کیخلاف مؤثر قانونی کارروائی کی جائے گی۔ تفصیلات کے مطابق وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ایف بی آر کے امور اور جاری اصلاحات پر جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا جہاں گفتگو کرتے ہوئے وزیرِاعظم نے کہا کہ ایف بی آر کی ڈیجیٹائیزیشن اور نظام کو خود کار بنانے کیلئے اقدامات تیزی سے جاری ہیں، 70 برس کے بگاڑ کو ٹھیک کرنے کیلئے سخت اقدامات ضروری ہیں، ٹیکس دینے والے افراد اور کاروبار کو زیادہ سے زیادہ سہولیات دیں گے، ٹیکس چوری کرنے والے افراد اور کاروبار کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں، ٹیکس چوری کرنے والے افراد اور کاروبار کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی کی جائے گی، ایف بی آر اور اس کے معاون قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ٹیکس آمدن میں اضافے کیلئے کوششیں قابل ستائش ہیں۔بتایا گیا ہے کہ اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، چیئرمین ایف بی آر اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی، اجلاس کو بریفنگ دی گئی کہ ملک میں سیلز ٹیکس کی چوری کی روک تھام کیلئے نیشنل ٹارگیٹنگ سسٹم متعارف کرایا جا رہا ہے، اس نظام کے تحت مصنوعات کی نقل وحمل میں شامل گاڑیوں کو ای ٹیگ اور ڈیجیٹل ڈیوائس کے ذریعے براہ راست ٹریک کیا جائے گا، مزید برآں ای بلٹی کا نظام بھی متعارف کرایا جا رہا ہے جو کہ ایف بی آر کے سسٹم پر جاری کی جائے گی۔اجلاس میں حکام نے بتایا کہ ملک کی تمام بڑی شاہراہوں اور شہروں میں داخلے کی جگہوں پر ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم نصب کیا جائے گا، اس اقدام سے سمگلنگ اور سیلز ٹیکس چوری کا خاتمہ ہوگا، عام شہریوں کو رکنے کی دقت سے نجات اور وقت کی بچت ہوگی، مذکورہ نظام سے معیشت کی ڈیجیٹائیزیشن ممکن ہوگی اور محصولات میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا، اسی طرح بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں پر درآمدات و برآمدات کی ڈیجیٹل و خودکار نگرانی کیلئے کسٹم ٹارگیٹنگ سسٹم متعارف کرایا جا رہا ہے۔اجلاس میں کہا گیا کہ اس نظام کو مقامی و بین الاقوامی ڈیٹا بیس سے منسلک کیا جائے گا اور مصنوعی ذہانت کو برؤے کار لاتے ہوئے ٹیکس چوری و سمگلنگ کی روک تھام کی جائے گی، ایف بی آر اور متعلقہ اداروں کی افرادی قوت کو نئے نظام سے روشناس کرانے کیلئے ان کی تربیت کا مؤثر انتظام بھی کیا جارہا ہے، اس نظام کو دو مرحلوں میں نافذ کیا جائے گا، پہلے مرحلے میں کسی ایک بڑے شہر سے اس کے پائلٹ پراجیکٹ کا آغاز کیا جائے گا اور بعد ازاں اسے ملک بھر میں نافذ کیا جائے گا۔بتایا جارہا ہے کہ اجلاس کو سیمنٹ، ہیچریز، پولٹری فیڈ، تمباکو اور مشروبات کے شعبے میں سیلز ٹیکس کی نگرانی کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی کہ چینی کی صنعت پر نافذ کر دہ نگرانی کے نظام کی طرح تمباکو، مشروبات، اسٹیل و سیمنٹ کے شعبوں میں پیداوار کی نگرانی کیلئے ایف بی آر اور معاون اداروں کے افسران و اہلکار تعینات کر دئیے گئے ہیں، اس موقع پر وزیرِ اعظم نے تمام اقدامات کو جلد، مؤثر اور پائیدار طریقے سے نافذ کرنے کی ہدایت کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: والے افراد اور کاروبار ایف بی ا ر اور کیا جائے گا کی جائے گی کرنے والے ٹیکس چوری اجلاس میں نظام کو

پڑھیں:

امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل

امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل تیرہویں رات بھی فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف ’بہت بڑے حملے‘ کا فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی جارحیت میں مزید اضافہ ہوا تو اس کی قیمت واشنگٹن کو پہلے سے کہیں زیادہ چکانا پڑے گی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق تازہ کارروائی 2 گھنٹے سے زائد جاری رہی، جس کے دوران ایران کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت، بالخصوص ساحلی نگرانی، فضائی دفاع اور فوجی انفراسٹرکچر کو مزید کمزور کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی پھر شدت اختیار کرگئی، کیا مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر ہے؟

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران نے ابھی تک ’کافی تکلیف نہیں دیکھی‘ اور وہ ایک بڑے پیمانے کے حملے کے بارے میں فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ امریکی صدر کے اس بیان نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے اور عالمی سطح پر خدشات میں اضافہ ہوا ہے کہ جنگ مزید وسیع ہو سکتی ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’بے معنی جارحیت‘ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے امریکا کو زیادہ بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

???? 13TH STRAIGHT NIGHT OF POUNDING IRAN.

U.S. forces just completed another round of strikes on Iranian military targets.

Command centers.

Drone storage.

Communication networks.

Coastal surveillance.

Maritime capabilities.

AMERICA KEEPS WINING ✌️???????????????? https://t.co/0y5aM7FeEr pic.twitter.com/0AWYpSnco6

— Xander Xand (@Xander24Xand) July 24, 2026

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران تہران، خنداب، خرم آباد، کنارک اور جاسک سمیت مختلف شہروں میں دھماکوں، میزائل حملوں اور فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بعض علاقوں میں فضائی دفاعی نظام نے آنے والے اہداف کو روکنے کی کوشش کی، تاہم نقصانات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔

دوسری جانب برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر اس کے مفادات یا سرزمین کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو اس کی مسلح افواج دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ یہ بیان ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی اس وارننگ کے بعد سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکی بمبار طیارے برطانوی اڈوں سے ایران پر حملوں کے لیے استعمال ہوئے تو ان اڈوں کو بھی ممکنہ اہداف سمجھا جا سکتا ہے۔

???????? U.S. STRIKES IRAN FOR 13TH CONSECUTIVE NIGHT

The U.S. military has launched another round of strikes against Iran, marking the 13th consecutive night of attacks.

CENTCOM: “US forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET (2245 GMT)… pic.twitter.com/iDXtuU2CJE

— Mossad Commentary (@MOSSADil) July 24, 2026

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنگ کے پھیلنے سے عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے کے باعث خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ عالمی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں مزید عسکری کارروائیاں پورے خطے کو ایک بڑے بحران میں دھکیل سکتی ہیں۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا ایران خلیج صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار