لکی مروت اور بنوں سے پولیو کے 2 نئے کیسز رپورٹ، رواں سال مجموعی تعداد 10 ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
پاکستان میں پولیو وائرس کے 2 نئے کیسز کی تصدیق ہو گئی ہے، جس کے بعد رواں سال (2025) کے پولیو کیسز کی مجموعی تعداد 10 ہو گئی ہے۔ نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (نیشنل ای او سی) کے مطابق تازہ کیسز خیبر پختونخوا کے اضلاع لکی مروت اور بنوں سے سامنے آئے ہیں۔
نیشنل ای او سی کے مطابق، لکی مروت کی یونین کونسل بخمل احمد زئی سے تعلق رکھنے والی 26 ماہ کی بچی میں 22 اپریل کو پولیو کی علامات ظاہر ہوئیں، جبکہ بنوں کی یونین کونسل سین ٹنگہ، تحصیل وزیر کے 40 ماہ کے بچے میں یکم مئی کو وائرس کی تصدیق ہوئی۔
نیشنل ای او سی نے انکشاف کیا ہے کہ لکی مروت اور بنوں جیسے علاقوں میں پولیو ٹیموں کو رسائی کے سنگین مسائل کا سامنا ہے، جس کے باعث بعض مقامات پر انسداد پولیو مہمات متاثر ہوئی ہیں۔ بنوں کی یونین کونسل سین ٹنگہ میں اکتوبر 2023 کے بعد سے کسی قسم کی انسداد پولیو مہم نہیں چلائی جاسکی۔
مزید پڑھیں: اجتماعی کوششوں سے پولیو پر قابو پائیں گے، وزیراعظم شہباز شریف
لکی مروت کی یونین کونسل بخمل احمد زئی میں فروری اور اپریل 2025 کی مہمات کے دوران ویکسین کی فراہمی ممکن نہ ہو سکی تھی۔ نیشنل ای او سی کے مطابق، رسائی کے ان مسائل کے حل اور مہمات کو بہتر بنانے کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔
نیشنل ای او سی کے مطابق 26 مئی سے ملک بھر میں تیسری قومی انسداد پولیو مہم شروع کی جا رہی ہے، جس کے دوران 5 سال سے کم عمر کے قریباً 4 کروڑ 54 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے والدین سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ ہر انسداد پولیو مہم کے دوران 5 سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو پولیو کے قطرے لازمی پلوائیں تاکہ ملک سے اس موذی مرض کا مکمل خاتمہ ممکن ہو سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
2 نئے کیس پاکستان پولیو وائرس لکی مروت نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 2 نئے کیس پاکستان پولیو وائرس لکی مروت نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر کی یونین کونسل نیشنل ای او سی انسداد پولیو کے مطابق لکی مروت
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔