امریکی پروفیسر نے ارناب گوسوامی کے شو کو بکواس قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
امریکا کی معروف پروفیسر اور سیکیورٹی امور کی ماہر کرسٹین فیئر نے بھارتی ٹی وی کے متنازع اینکر ارناب گوسوامی کے مباحثے سے اچانک شرکت ختم کردی۔
جارج ٹاؤن یونیورسٹی کی پروفیسر نے اپنے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر واضح کیا کہ وہ شو کے ’’جنگجو اور شورشرابے بھرے‘‘ ماحول کو برداشت نہیں کرسکیں۔
کرسٹین فیئر نے اپنے بیان میں لکھا کہ ’’جب ہر کوئی صرف چیخ رہا ہو اور معقول گفتگو کا کوئی امکان نہ ہو، تو ایسے شو میں بیٹھنے کے بجائے دنیا میں کرنے کےلیے بہت سی اہم چیزیں موجود ہیں۔‘‘ کرسٹین کا یہ اقدام بھارتی ٹی وی کے ان مباحثوں پر ایک واضح تنقید ہے جو اکثر شور شرابے اور غیر معقول رویوں کی نذر ہوجاتے ہیں۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب بھارتی میڈیا میں خاص طور پر ارناب گوسوامی کے شوز میں ہونے والی بحثیں اکثر تنقید کا نشانہ بنتی ہیں۔ کرسٹین فیئر کا یہ قدم دراصل ایک ایسے میڈیا کلچر کے خلاف احتجاج ہے جہاں معاملات کو گہرائی سے سمجھنے کے بجائے صرف شور مچانا اور جذباتی ہو جانا معمول بن چکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران پر امریکی جارحیت کے بعد عالمی توانائی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ برطانوی خام تیل 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات کا مربن خام تیل 108 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہونے لگا ہے، جو عالمی منڈی میں توانائی کی بڑھتی ہوئی بے یقینی کی عکاسی کرتا ہے۔ادھر قدرتی گیس کی قیمت بھی بڑھ کر 2.95 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (MMBtu) ہو گئی ہے، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں کشیدگی کے اثرات مزید نمایاں ہو رہے ہیں۔