نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی: اسرائیل یتیم ہوگیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
اب جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مشرق وسطیٰ کے اہم ترین ممالک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کا کامیاب اور غیر معمولی اور اسرائیل سے غیر مربوط دورہ مکمل کرچکے ہیں، تو ایک بات اب زیادہ وضاحت سے کہی جاسکتی ہے کہ غیرقانونی صہیونی ریاست اسرائیل کی موجودہ حکومت، جس کی قیادت نیتن یاہو کررہے ہیں، اب امریکا کی اتحادی نہیں رہی۔
ٹرمپ کے اس دورے میں ایک بات نمایاں طور پر غیر حاضر رہی جس میں اسرائیل کا ذکر، نیتن یاہو سے ملاقات، یا کوئی علامتی خیرسگالی کا پیغام۔ یہ خاموشی محض سفارتی چال نہیں تھی، بلکہ یہ صہیونی ریاست کو ایک اہم پیغام تھا، واشنگٹن اب اس حقیقت کو تسلیم کررہا ہے کہ نیتن یاہو نہ صرف امریکی مفادات کو نظرانداز کر رہے ہیں بلکہ ان کے خلاف سرگرم ہوچکے ہیں۔
امریکی معروف اخبار نیویارک ٹائمز میں توماس فریڈمین نے ایک مضمون لکھا جس میں انھوں نے کہا کہ ’’اب میں پہلے سے زیادہ یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا خلیجی ریاستوں کے دورے کے دوران صہیونی وزیراعظم نیتن یاہو سے ملاقات کا نہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکی صدر نے ایک بنیادی حقیقت کو تسلیم کرلیا ہے کہ موجودہ صہیونی حکومت ایسے انداز میں عمل کر رہی ہے جو مشرق وسطیٰ میں امریکا کے بنیادی مفادات کےلیے خطرہ بن چکی ہے۔ نیتن یاہو اب ہمارا دوست نہیں ہے۔‘‘
یہ کہنا شاید سخت لگے، مگر حقیقت یہی ہے۔ نیتن یاہو کی حکومت نے شدت پسند مذہبی گروہوں اور نسل پرست عناصر سے سمجھوتے کیے، وہ دو ریاستی حل کو ختم کرنے پر تلی ہوئی ہے، اور اس نے بارہا ایسی پالیسیاں اپنائی ہیں جو خطے میں امریکی مفاہمتی کوششوں کو سبوتاژ کرتی ہیں۔
انھوں نے اپنے مضمون میں لکھا کہ صدر ٹرمپ نے اپنی سیاسی سرگرمیوں سے نیتن یاہو کو یہ پیغام دیا ہے کہ خطے کے مستقبل کے فیصلے اب اسرائیل کے رحم و کرم پر نہیں ہوں گے اور یہ صرف پیغام نہیں ہے بلکہ ٹرمپ کے حالیہ فیصلے اس بات کا ثبوت ہیں جس میں ایران کے جوہری پروگرام کے ساتھ مذاکرات کی منظوری، یمن میں حوثیوں کے ساتھ جنگ بندی پر اتفاق، اور سعودی عرب کے ساتھ سول نیوکلیئر پروگرام پر بات چیت شامل ہے۔ یہ فیصلے اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ امریکا اب اپنے علاقائی تعلقات کو صرف اسرائیل کے تناظر میں نہیں دیکھ رہا۔
امریکا کے خلیجی ریاستوں سے براہ راست اور دو طرفہ تعلقات، قطر اور سعودی عرب جیسے ممالک کو نئے شراکت داروں کے طور پر تسلیم کرنا، اور غیرقانونی صہیونی ریاست کو اس صف سے وقتی طور پر باہر رکھنا یہ سب دراصل واشنگٹن کے بدلتے ہوئے مزاج کی عکاسی کرتے ہیں۔
امریکا اور صہیونی ریاست کے درمیان دوریوں کی بہت ساری وجوہات ہیں جن میں سب سے بڑی اسرائیل کی جانب سے غزہ میں نہتے شہریوں پر مسلسل وحشیانہ بمباری، انسانی حقوق کی سنگین پامالی، اور امن مذاکرات کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنا ایسے عوامل ہیں جنہوں نے واشنگٹن کے کئی فیصلہ سازوں کو نیتن یاہو حکومت سے دور ہونے پر مجبور کیا ہے۔
امریکا کی نئی خارجہ پالیسی کا زاویہ اب یہ اشارہ دے رہا ہے کہ ’’ہم صہیونی ریاست اسرائیل کی بقا کے حامی ہیں، لیکن ہم نیتن یاہو کی امریکا سمیت انسان دشمن پالیسیوں کے وکیل نہیں۔‘‘ ٹرمپ کے دورے نے یہ پیغام دو ٹوک انداز میں ظاہر کردیا ہے کہ امریکا کی خطے میں قیادت اب اسرائیل کے ذریعے نہیں، بلکہ اپنے مفادات کے مطابق ہوگی۔ نیتن یاہو اب امریکا کا وہ ’’قریبی اتحادی‘‘ نہیں رہا جس پر وہ آنکھ بند کرکے بھروسہ کرے۔
فریڈمین نے لکھا کہ وقت آگیا ہے کہ ہم امریکا میں پالیسی ساز، تجزیہ کار، اور عام شہری یہ تلخ حقیقت تسلیم کریں کہ نیتن یاہو کی قیادت میں اسرائیل کی حکومت نہ صرف خطے میں امن کے خلاف کام کر رہی ہے بلکہ ہمارے قومی مفادات سے بھی متصادم ہے۔
یہاں یہ بات اہم ہے کہ یہ رائے صرف امریکی دانشوروں اور پالیسی سازوں ہی کی نہیں ہے بلکہ صہیونی ریاست کے ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے متعدد تجزیاتی اور رائے پر مبنی مضامین میں بھی یہ موضوع زیر بحث رہا کہ وزیراعظم نیتن یاہو اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان جو قریبی تعلقات پہلے دیکھنے کو ملتے تھے، وہ اب ماضی کا قصہ بن چکے ہیں۔
ان اسرائیلی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی حالیہ پالیسیوں میں کئی حیران کن اقدامات شامل ہیں جن پر اسرائیلی حکومت کو اعتماد میں لینا تو دور کی بات خبر بھی نہیں ہونے دی گئی۔
ان تحریروں کا مشترکہ تاثر یہ ہے کہ اسرائیل کی موجودہ حیثیت، خصوصاً امریکی انتظامیہ کے تناظر میں، نمایاں طور پر کمزور ہوگئی ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق امریکا کی توجہ اب سعودی عرب اور قطر جیسے ممالک پر مرکوز ہوچکی ہے، جو نہ صرف خطے میں اثر و رسوخ بڑھا رہے ہیں بلکہ واشنگٹن کی خارجہ پالیسی کے نئے محور بھی بن چکے ہیں۔
تجزیہ نگاروں کی اکثریت اس صورت حال کا ذمے دار براہ راست نیتن یاہو کو قرار دیتی ہے، جس کی بنیادی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ انہوں نے حماس کے ساتھ جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کی کوششوں کو سبوتاژ کیا اور یہ سب انہوں نے اپنے دائیں بازو کے اتحادیوں، بالخصوص وزیر خزانہ سموتریچ اور قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر، کی انتہاپسند شرائط کی بنیاد پر کیا۔
معروف اخبار ہیرٹس کے معروف عسکری تجزیہ کار عاموس ہرئیل نے لکھا کہ امریکا اب اپنی مشرق وسطیٰ کی حکمت عملی کو ازسرنو ترتیب دے رہا ہے، اور یہ تبدیلی عسکری بالادستی سے ہٹ کر معاشی تعاون اور تنازعات کے سیاسی حل کی جانب منتقل ہو رہی ہے۔ ہرئیل کے مطابق، ٹرمپ کی موجودہ پالیسی ایک عملی، تجارتی سوچ اور طویل المدتی جنگوں سے گریز کی مظہر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ علاقائی قوتوں، جن میں اسرائیل بھی شامل ہے، پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ غزہ پر جاری جنگ ختم کرنے کی کسی نہ کسی شکل کو قبول کریں، لیکن اسرائیل اس کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتا۔ ان کے بقول، اسرائیل کا موجودہ کردار ان تمام علاقائی تبدیلیوں میں محض ایک ضمنی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
اسی موضوع پر یدیعوت احرونوت کے ممتاز سیاسی تجزیہ نگار ناحوم برنیع نے اپنی تحریر میں لکھا کہ ٹرمپ کی خلیجی ریاستوں میں حالیہ سفارت کاری نے یہ حقیقت بے نقاب کردی ہے کہ امریکی پالیسی میں مرکزِ ثقل اسرائیل سے ہٹ کر دوسری جگہوں پر منتقل ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا: ’’اسرائیل اب اس بچے کی مانند ہے جسے گھر پر چھوڑ دیا گیا ہو۔ وہ ریاست جسے کبھی واشنگٹن میں دونوں سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل تھی، اب اپنی مستحکم جمہوری حیثیت تک کھو چکی ہے۔‘‘
دوسری جانب، اخبار اسرائیل ہیوم کے دفاعی تجزیہ کار یوآف لیمور نے لکھا کہ اسرائیل - امریکا کی شراکت داری، جو برسوں سے واشنگٹن کی علاقائی پالیسی کی بنیاد سمجھی جاتی تھی، اب اس ہفتے کے واقعات کے بعد پس منظر میں چلی گئی ہے۔ ان کے مطابق: ’’اگرچہ اس شراکت داری کو سرکاری طور پر ختم نہیں کیا گیا، لیکن واشنگٹن نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اب صرف اپنی قومی ترجیحات کے مطابق آگے بڑھے گا۔‘‘
انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیل کا عالمی سطح پر امیج بگڑ چکا ہے، اور کچھ مغربی دارالحکومتوں خصوصاً فرانس، اسپین، برطانیہ سمیت اٹلی ناروے اور آئرلینڈ میں اسے ایک ’’تنہا ریاست‘‘ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ جہاں ماضی میں سفارتی بات چیت ہوا کرتی تھی، وہاں اب اسرائیل پر سیاسی حملے کیے جارہے ہیں۔
اسرائیلی صحافت میں ابھرنے والی یہ آوازیں اس بات کا پتہ دیتی ہیں کہ تل ابیب کی روایتی حیثیت کو واشنگٹن میں چیلنج کیا جارہا ہے، اور مشرق وسطیٰ میں نئے اتحاد ابھر رہے ہیں، جن کی بنیاد مفاہمت، معاشی تعاون، اور اسٹرٹیجک توازن پر رکھی جا رہی ہے، نہ کہ صرف فوجی برتری اور غیر مشروط حمایت پر۔ ان تبدیلیوں کا بظاہر سب سے بڑا نقصان اسرائیل کو ہو رہا ہے، جسے اب نئے علاقائی اور بین الاقوامی منظرنامے میں اپنی جگہ دوبارہ تلاش کرنا ہو گی۔
اگرچہ یہ تجزیے اور آرا کسی حد تک خطے کی بدلتی سیاسی حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں لیکن اس میں صہیونی ریاست کی جانب سے مبالغہ آرائی، خود فریبی اور برتری کے جذبے کی جھلک نمایاں ہے۔ ان تمام آرا کا مرکزی نکتہ یہی ہے کہ امریکا کے ساتھ اسٹرٹیجک تعلقات پر صرف اسرائیل کا حق ہے اور کوئی اور ملک، خاص طور پر عرب دنیا، اس رشتے میں حصہ دار نہیں ہو سکتا۔
ان خیالات میں یہ تصور موجود ہے کہ امریکا کی خطے میں موجودگی اور مفادات کو صرف اسرائیل کی خاطر بروئے کار لایا جانا چاہیے تاکہ اس کی عسکری اور سیاسی بالادستی برقرار رہے۔ ان تجزیہ نگاروں کے نزدیک موجودہ بحران کا بنیادی سبب نیتن یاہو کی سیاسی حکمت عملی ہے گویا کہ اگر نیتن یاہو جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے کسی معاہدے پر رضامند ہو جائیں، تو اسرائیل دوبارہ امریکا کی مرکزی ترجیح بن جائے گا، اور ’’اپنی فطری حیثیت‘‘ حاصل کرلے گا۔
یہ تجزیے دراصل اسرائیلی اسٹیبلشمنٹ کی اس سوچ کی عکاسی کرتے ہیں کہ بس صرف وزیرِاعظم کی پالیسی میں معمولی تبدیلی ہی کافی ہے، باقی اسرائیل کے تمام اقدامات ناقابل تنقید اور جائز ہیں۔
اس سیاسی تبدیلی کا ایک اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ بیشتر اسرائیلی تجزیے سعودی عرب اور امریکا کے درمیان عشروں پر محیط اسٹرٹیجک تعلقات کو مکمل طور پر نظر انداز کر رہے ہیں۔ جیسا کہ معروف فلسطینی مؤرخ رشید الخالدی نے اپنی کتاب ’’وسطاء الخداع‘‘ (کیسے امریکا نے مشرق وسطیٰ میں امن کو نقصان پہنچایا) میں وضاحت کی ہے، امریکا اور سعودی عرب کے تعلقات محض وقتی یا جذباتی نہیں، بلکہ گہرے اسٹرٹیجک مفادات پر قائم ہیں۔
ان میں سب سے اہم مفاد مغربی دنیا کو توانائی کی بلا تعطل فراہمی اور خلیجی حکومتوں کی علاقائی خطرات کے خلاف حمایت شامل ہے۔ یعنی امریکا اور سعودی عرب کا تعلق ہمیشہ سے ہی دو طرفہ مفادات کا حامل رہا ہے، اور اس میں کسی تیسرے ملک، حتیٰ کہ اسرائیل کےلیے خاص مراعات کی کوئی گنجائش نہیں۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ اب مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن تبدیل ہورہا ہے، اور غیرقانونی صہیونی ریاست اسرائیل اب امریکا کے زیر سایہ نہیں رہا ہے اور نہ ہی اس کو اب وہ حمایت حاصل ہے جو اس کی ناجائز پیدائش کے بعد سے حاصل رہی تھی۔ امریکا کی توجہ اب اُن ممالک کی جانب بڑھ رہی ہے جو خطے میں استحکام، اقتصادی شراکت داری اور مفاہمت کےلیے آمادہ ہیں اور جو اپنے رویے سے یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ وہ علاقائی امن کےلیے سنجیدہ ہیں۔
یہاں اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ غیر قانونی صہیونی ریاست واقعی خطے میں اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنا چاہتی ہے تو اسے نہ صرف داخلی سیاسی رویوں میں تبدیلی لانا ہوگی، بلکہ فلسطینی عوام کے حقوق کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قانون کا احترام بھی کرنا ہوگا۔ بصورتِ دیگر، اسرائیل کی ’’تنہائی‘‘ صرف ایک سفارتی اصطلاح نہیں بلکہ ایک نئی حقیقت بن سکتی ہے۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اور سعودی عرب تجزیہ نگاروں صہیونی ریاست نیتن یاہو کی کہ اسرائیل اسرائیل کے اسرائیل کا اسرائیل کی کہ امریکا امریکا کے امریکا کی انہوں نے کرتے ہیں کے مطابق لکھا کہ رہے ہیں کی جانب ٹرمپ کے کے ساتھ اور غیر رہا ہے اس بات ہیں کہ اور اس رہی ہے
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔