عالمی دباؤ کام آگیا، نیتن یاہو غزہ میں عارضی جنگ بندی پر آمادہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ غزہ کی پٹی میں خوراک کی تقسیم کیلئے امریکا کیساتھ مل کر منصوبہ تیار کیا ہے، جنگ کو واضح شرائط پر ختم کرنے کیلئے تیار ہیں، غزہ کو مکمل غیر مسلح کرنے کے امریکی صدر کے منصوبے پر عمل کر رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ امید ہے امریکا ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے سے روکے گا۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ غزہ کی پٹی میں خوراک کی تقسیم کیلئے امریکا کیساتھ مل کر منصوبہ تیار کیا ہے، جنگ کو واضح شرائط پر ختم کرنے کیلئے تیار ہیں، غزہ کو مکمل غیر مسلح کرنے کے ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے پر عمل کر رہے ہیں۔ نیتن یاہو نے مزید کہا کہ حماس کو مکمل طور پر ہتھیار ڈالنے ہوں گے، 100 امدادی ٹرک غزہ آئے تھے، ان میں سے 10 پر حماس نے قبضہ کر لیا، امدادی سامان پر حماس کے قبضے کو روکنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اقوام متحدہ نے امداد بھیجنے کا اسرائیلی دعویٰ مسترد کرتے ہوئے کہا اب تک ضرورت مند افراد تک امداد نہیں پہنچی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نیتن یاہو
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔