فیلڈ مارشل عاصم منیر کے اعزاز میں تقریب آج ایوان صدر میں ہوگی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو بیجز لگانے کے لیے خصوصی تقریب آج ہوگی۔ عاصم منیر کو فیلڈمارشل کابیج لگانے کیلئے خصوصی تقریب شام 7بجے ایوان صدرمیں منعقد ہوگی۔ تقریب میں صدر مملکت آصف علی زرداری ،عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کا بیج اور ”سٹک“ پیش کریں گے۔ تقریب میں وزیر اعظم شہباز شریف، وفاقی وزرا سمیت سول اور عسکری شخصیات شریک ہوں گی۔گزشتہ روز فیلڈمارشل عاصم منیر کی درخواست پر خضدار واقعے کی وجہ سے تقریب مؤخر کردی گئی تھی۔پاکستان کی مسلح افواج نے مادر وطن کا کامیابی سے دفاع کرتے ہوئے چھ بھارتی لڑاکا طیاروں کو مار گرایا۔جسے ’معرکہ حق‘ اور’آپریشن بنیان مرصوص‘ کا نام دیا گیاہے۔ہندوستان نے بالواسطہ طور پر اس واقعہ کا اعتراف کیا ہے۔ اس معرکے کے اعتراف میں سید عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے سے نواز گیا ۔عاصم منیر دوسری شخصیت ہیں جنہیں فیلڈ مارشل بنایا گیا ہے ۔اس سے قبل صدر جنرل ایوب خان 1959 میں فیلڈ مارشل بنے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: عاصم منیر کو فیلڈ مارشل
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔