کبھی اپنی دھرتی ماں کیخلاف قدم نہ اٹھانا : مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
وزیر اعلیٰ مریم نواز نے کہا ہے کہ طلبہ کوبہترین اورجدید ترین لیپ ٹاپ دیئے گئے ہیں. طلبہ کا حق دینے کےلیے ہربارآنا پڑا توبھی آؤں گی۔وزیرا اعلیٰ مریم نواز نے یونیورسٹی آف سرگودھا میں طلبہ میں لیپ ٹاپ اوراسکالرشپس کی تقسیم کے موقع پر تقریب سے خطاب کے دوران چھوٹے بچوں کے نصاب میں اے آئی کی جدید تعلیم شامل کرنے اور اسکالرشپ کو30 ہزارسے بڑھا کر50 ہزارروپے کرنے کا اعلان کیا۔ان کا کہنا تھا کہ سرگودھا میں 8 ماہ میں نوازشریف فلائی اوور بنایا اوراب نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی تکمیل کے مراحل میں ہے۔مریم نواز نے 9 مئی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ 9 مئی کو ایک جماعت نے جو کچھ کیا وہی سب کچھ دہشت گرد اورملک دشمن کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کا مستقبل مضبوط اور محفوظ ہاتھوں میں ہے.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: مریم نواز نے کہا کہ
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔