سٹی42: ملک میں کیا ہو رہا ہے، قوم کن حالات سے گزر رہی ہے، اس سے کچھ غرض نہیں، پی ٹی آئی کا گدھا اب بھی اسی کنویں میں لٹکا ہوا ہے جس میں 22 اپریل سے پہلے لٹکا ہوا تھا۔ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ نے دھمکی دی ہے کہ " بانی سے ہمارے لوگوں کی ملاقات نہیں ہونے دی گئی تو آئی ایم ایف کی شرائط پر ساتھ نہیں دیں گے۔"
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی آج اڈیالہ جیل میں ان کے بانی عمران خان سے ملاقات کروائی گئی۔ وہ ڈھائی گھنٹے اپنے بانی کے ساتھ رہے۔
خصوصی بچوں کےسکولوں کے اوقات کار میں کمی
اس ملاقات کے بعد اڈیالہ جیل سے باہر آئے تو نیوز کیمروں کو سامنے دیکھتے ہی علی امین گنڈاپور نے دھمکی دے دی۔
میڈیا کیمروں کے سامنے علی امین گنڈاپور نے وہی باتیں کیں جو پی ٹی آئی کے لیڈر اور کارکن عرصہ دراز سے کر رہے ہیں۔ ان باتوں کے ساتھ انہوں نے دھمکی دی کہ ہمارے لوگوں کی بانی سے ملاقات نہیں ہونے دی گئی تو آئی ایم ایف کی شرائط پر ہم ساتھ نہیں دیں گے۔ علی امین گنڈاپور نے کہا، " بجٹ کے لیے ہمارے پانچ چھ لوگوں کو بانی پی ٹی آئی سے ملنے دیا جائے۔"
لاہور میں تیز ہوائیں چلنے سے گرمی کی شدت میں کمی
علی امین گنڈاپور نے یہ نہین بتایا کہ انہین یہ دھمکی دینے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے کہ وہ انترنیشنل مانیٹری فنڈ کے ساتھ ریاست کے معاہدہ پر عمل درآمد مین رکاوٹ ڈالیں گے، آیا وہ جن لوگوں کی بانی سے ملاقات کروانا چاہتے ہیں، انہیں ملاقات کروانے سے جیل حکام انکار کر چکے ہیں یا ابھی کسی نے ملاقات کے لئے کوئی درخواست دی بھی ہے یا نہیں۔
علی امین گنڈاپور نے کہا، بانی مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔علی امین نے ایک بار پھر یہ الزام لگایا کہ پاکستان میں "حقیقی جمہوریت" نہیں ہے، انہوں نے دانشوروں جیسے انداز سے کہا، ملک میں آئین کی بالادستی ہونا چاہئے۔ ملک میں حقیقی جمہوریت کی ضرورت ہے۔ اب سسٹم کو سمجھ آجانی چاہیےکہ ڈنڈے کے زور پر یہ نہیں چل سکتا، عدالتوں میں جوہمارے کیسز لگے ہوئے ہیں ان پر فیصلے کیے جائیں، ہم بہت جلد کو رہا کروائیں گے۔
باغبانپورہ : گزشتہ 24گھنٹوں سے بجلی بند
علی امین گنڈا پور نے کہا، اگر مذاکرات کرنے ہیں تو بانی حاضر ہیں، ہمارا مطالبہ ہے بانی کو رہا کیا جائے۔
علی امین نے ملک کے حالات کو فراموش کرتے ہوئے کہا، وہ ایک بار پھر "احتجاج" کریں گے۔ انہوں نے کہا، مجھے ڈیوٹی ملی تھی کہ حکومت کو سنبھالوں لیکن اب احتجاج کے لیے بھی متحرک ہوجائیں گے۔ ہماری احتجاجی تحریک بھرپور ہوگی، انسانی حقوق کی پامالی ہورہی ہے۔
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: علی امین گنڈاپور نے نے کہا
پڑھیں:
ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
حاصل مطالعہ
عبدالرحیم
ٹرمپ نے اسرائیل کو کاک پٹ سے نکال کراکانومی میں بٹھا دیا ہے جس کے اسرائیل اور خاص طور پر وزیر اعظم کیلئے ممکنہ اہم نتائج نکلیں گے۔انہیں اس سال دوبارہ انتخاب کیلئے محنت طلب جنگ کا سامنا ہے۔نتن یاہو نے طویل عرصے سے اسرائیلی ووٹرز سے کہا ہوا ہے کہ وہ ٹرمپ سے سرگوشی کرتا ہے اور صدر کی حمایت برقرارکھنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ٹیلی ویژن پر تقریر میںانہوں نے اپنے آپ کو صدر کا ہم رتبہ قرار دیا اور اسرائیلیوں کو یقین دلایا کہ ان کی ٹرمپ سے تقریباً روزانہ بات چیت ہوتی ہے،خیالات اور مشورہ کا تبادلہ ہوتا ہے اور وہ اکٹھے فیصلہ کرتے ہیں۔
اے آئی اور بے روزگاری
یہ امر واضح ہے کہ اے آئی ہماری روزمرہ کی زندگیوں کی دوبارہ تشکیل کرے گی۔گولڈ مین ساچز کے اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگلے عشرے میں اے آئی موجودہ کام کے گھنٹوں کے25 فی صد کو خودکار بنا دے گی۔ وہائٹ کالر جابز میں لوگ مثلاً اکائونٹنٹس ، بینکرز اور وکلاء اپنے بہت سے کام خودکار پائیںگے،اسٹین فورڈ کے ایک جائزہ کے مطابق سافٹ ویئر انجینئرنگ ،کسٹمر سروس اورانٹری لیول کے روزگار میں16 فیصد کمی آئی ہے۔اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کیلئے بڑھتی ہوئی طلب نے2022 سے 2 لاکھ سے زائد کنسٹرکشن روزگارپیدا کیا ہے۔ تین وجوہ ایسی ہیں کہ عالمی معیشت مشکلات سے جلد بحال ہونے کی قوت رکھے گی اور فعال رہے گی۔ اول، اے آئی25 فیصد روزگار کا خاتمہ نہیں کرے گی۔ اس امر کا امکان ہے کہ لوگ اپنا وقت گزارنے کیلئے زیادہ بار آور طریقے تلاش کر لیں گے۔ پہلے ایک بینکنگ تجزیہ نگار کو ایک اسٹاک کی کارکردگی کا گراف بنانے کیلئے 6 گھنٹے لگتے تھے۔ اسے وال اسٹریٹ جرنل کے گزشتہ شمارے دیکھنا پڑتے تھے ،آج ایک تجزیہ نگاریہ کام سیکنڈوں میں کر سکتا ہے۔
دوم، کسی جاب کی کوئی جگہ لے سکتا ہے۔کا یہ مطلب نہیں کہ ایسا ہوگا۔ ٹیلی ویژن میں لائیو انٹرٹینمنٹ کی طلب ختم نہیں ہوئی،نہ ہی انٹرنیٹ نے رئیل اسٹیٹ ایجنٹس یا فٹنس انسٹرکٹرز کا کام ختم کیا۔
سوئم، امریکی کمپنیاں سالانہ ڈھائی کروڑ اور ساڑھے تین کروڑ جابز ختم اور پیدا کرتی ہیں کیونکہ اے آئی چیزوں کوزیادہ جدت پسند بناتی ہے۔ معیشت اپنے آپ کو ڈھالتی رہتی ہے۔
بھارت کے نوجوانوں کیلئے غیر متوقع آواز
ابھیجیت دیپکے نے ڈیجیٹل گروپ کاکروچ جنتاپارٹی اس لئے قائم کی کہ بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ نے بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ کہہ کر پکارا تھا۔طنزیہ کاکروچ جنتاپارٹی ان نوجوانوں کو اپیل کرتی ہے جنہیں حکومت نے نظر انداز کیا ہے۔دوتین ہفتے قبل ابھی جیت دیپکے امریکہ میں ان ہزاروں بھارتی طلبہ میں ایک تھا جس کے پاس نئی گریجویٹ ڈگری تھی اور ملازمت کا خواہشمند تھا۔ پھر ایک کاکروچ نے اس کی زندگی بدل دی۔اس کی ابتدا ایک سوال سے ہوئی۔اجیت دیپکے بوسٹن یونیورسٹی میں پبلک ریلیشنز پرگرام کا 30 سالہ گریجویٹ تھا۔اس نے16 مئی کو ایکس پر پوسٹ کیاکہ کیا اگر تمام کاکروچز اکٹھے ہو جائیں؟وہ ایک روز قبل بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ کے کمنٹس کا جواب دے رہا تھا جنہوں نے نوجوان اور بے روزگار بھارتیوں کو کاکروچز کہا تھا جو ملازمتیں حاصل کرنے میں ناکام رہے اور وہ سوشل میڈیا پرشکایت کرتے ہیں اور سرگرم ارکان بن کر سسٹم پر نکتہ چینی کرتے ہیں۔
ہزاروں جواب سے حوصلہ افزائی پاکر جنہوں نے اس کی کال کی توثیق کی،اجیت دیپکے نے اپنی ویب سائٹ پر اے آئی اور دوستوں کی مددسے دو گھنٹے میںمذاق مذاق میںکروچ جنتاپارٹی کا آغاز کیا۔مقصد نوجوانوں کیلئے تحریک پیدا کرناتھا جنہیںسست اور آن لائن پر اور حال ہی میں کروچز کہا جانے لگا۔ لاکھوں نوجوان اس تحریک میں شامل ہو گئے جو بے عزتی کو فخر میں تبدیل کرنے کے خواہشمند تھے۔ دنوں کے اندرکروچ جنتاپارٹی کے بعض اکائونتس میں بھارت کی سب سے بڑی پارٹیوں سے زیادہ سوشل میڈیا کے فالوئرز ہوگئے۔اجیت دیپکے کے پیغام کا قبول کیا جانا بہت سے نوجوان بھارتیوں کے اداس موڈ کی بڑی کہانی بتاتاہے جو ملازمتیں تلاش کرنی کی جدوجہد کر رہے ہیں باوجودیکہ ملک دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت مسلسل4 برسوں سے ترقی کر رہی ہے۔
کاکروچ جنتاپارٹی جس کے10 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں،ان لوگوں کو زبان دینا چاہتی ہے جنہیں کرپٹ حکومت نظر انداز کرتی ہے۔ ویب سائٹ میں کہا گیا ہے کہ ہم تحریری طور پر پوچھتے ہیں کہ پیسہ کہاں گیا؟ابھی جیت دیپکے نے ایک انٹرویو میں کہا کہ موجودہ سیاسی نظام ان کی پرواہ نہیں کرتا،خواہ سرکاری پارٹی ہو یا اپوزیشن۔ابھی جیت دیپکے اس وقت امریکہ میں ہے۔
ایپل کیا کرتا ہے؟
ایپل اپنی پروڈکٹس ڈایزائن کرتا ہے،ان کے چپس تیار کرتا ہے،آپریٹنگ سسٹم بناتا ہے،برانڈنگ،مارکیٹنگ اور ریٹیل ایکسپیرئینس کو کنٹرول کرتا ہے۔لیکن یہ مینوفیکچرکچھ نہیں کرتا ۔آئی فونز اور میک بکس کو ژینگزو میں فوکس کون اور پیگاٹرون شنگھائی میں مینوفیکچر کرتاہے۔ایڈوانسڈ چپسTSMC تائیوان میں تیار کرتی ہے جبکہ جنوبی کوریا میںسام سنگ ڈس پلے کرتا ہے۔ایپل ہر ڈیوائس سے منافع کا80 تا90 فیصد حاصل کرتا ہے جبکہ سپلائرز جوواقعی فزیکل ورک کرتے ہیں، باقی حصے پر لڑتے ہیں۔ یہ طریق کار کارپوریٹ منافع اور شیئر ہولڈرز کی قدر زیادہ سے زیادہ کرتا ہے۔
٭٭٭