فائنل میں رسائی کے لیے پُرامید ہیں، ٹیم کا مائنڈ سیٹ مثبت ہے، عبداللہ شفیق
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
لاہور:
لاہور قلندرز کے بلے باز عبداللہ شفیق نے پریس کانفرنس کے دوران ٹیم کی حالیہ کارکردگی، اپنی انفرادی پرفارمنس اور آئندہ میچز کے حوالے سے اعتماد کا اظہار کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹیم مکمل یکجہتی کے ساتھ میدان میں اتر رہی ہے اور ہم پرامید ہیں کہ اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف کامیابی حاصل کرکے فائنل کے لیے کوالیفائی کریں گے۔
عبداللہ شفیق نے اپنی انفرادی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے کہا ko سب سے پہلے اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ میں ٹیم کے لیے اچھا پرفارم کر سکا۔ میری ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ میری پرفارمنس ٹیم کی جیت میں مددگار ثابت ہو۔
مزید پڑھیں: پی ایس ایل پلے آف میچز؛ ڈی آر ایس سمیت اہم ٹیکنالوجیز سے محروم
جدید کرکٹ کے تقاضوں پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماڈرن ڈے کرکٹ میں فٹنس اور ٹریننگ کے ساتھ ساتھ مائنڈ سیٹ بھی اہم ہوتا ہے۔ اگر سوچ مثبت ہو تو نتائج بھی بہتر آتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہر کھلاڑی کو اپنی ذمہ داریوں کا بخوبی علم ہے اور ہماری ٹیم میں ہر کھلاڑی کو اپنے رول کا پتہ ہے اور ہر کوئی اسی کے مطابق پرفارم کرتا ہے۔
اپنی بیٹنگ پوزیشن پر گفتگو کرتے ہوئے شفیق نے کہا کہ میں ہمیشہ سے اوپننگ کرتا آیا ہوں، لیکن جہاں ٹیم کو ضرورت ہوتی ہے وہاں کھیلنے کے لیے تیار رہتا ہوں۔
لاہور قلندرز کے کپتان شاہین شاہ آفریدی کی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شاہین ہماری ٹیم کے لیڈر ہیں، اور ہم سب ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
مزید پڑھیں: پی ایس ایل ایلیمینیٹر: قلندرز نے کنگز کو شکست دیکر فائنل کی دوڑ سے باہر کر دیا
اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف اہم میچ پر تبصرہ کرتے ہوئے شفیق نے کہا کہ ہم پرامید ہیں کہ اسلام آباد کے خلاف اچھا پرفارم کریں گے اور فائنل میں جگہ بنائیں گے۔
انہوں نے فیلڈنگ میں ہونے والی غلطیوں کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کیچز ڈراپ ہونا میچ کا حصہ ہیں، مگر ہم کوشش کرتے ہیں کہ بیٹنگ میں بہتر کارکردگی دکھا کر ان غلطیوں کو کور کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کرتے ہوئے نے کہا کہ انہوں نے شفیق نے کے لیے
پڑھیں:
پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے نئی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو مؤخر کر رہے ہیں یا ان پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تازہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے میں یہ بات سامنے آئی، سروے میں پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ او آئی سی سی آئی کی جانب سے 2026ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران کیے گئے بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے کی 29ویں لہر کے نتائج جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9فیصد پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 13 فیصد رہ گیا ہے، جو اس سے قبل 28ویں لہر میں مثبت 22 فیصد تھا۔ سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔
کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے سرمایہ کاری کے فیصلوں، پیداواری لاگت، خام مال کی دستیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے۔ شعبہ جاتی بنیادوں پر خدمات کے شعبے میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی، جہاں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی 7 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم ریٹیل سیکٹر واحد شعبہ رہا جہاں کاروباری اعتماد میں 3 پوائنٹس بہتری آئی اور یہ مثبت 20 فیصد تک پہنچ گیا۔ سرمایہ کاری کے رجحانات میں بھی نمایاں کمزوری سامنے آئی ہے۔ نیو انویسٹمنٹ انڈیکس 10 پوائنٹس کمی کے بعد صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کاروباری ادارے موجودہ غیر یقینی صورتحال میں نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ سروے کے مطابق بیشتر ادارے متاثرہ تجارتی راستوں پر انحصار کم کرنے، سپلائی چین کو متنوع بنانے اور آپریشنل خطرات کم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔
سروے کے مطابق عالمی کاروباری صورتحال کا اشاریہ بھی 31 پوائنٹس تک گر گیا ہے، جبکہ تمام شعبوں سے وابستہ کاروباری اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ تعطل چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔ آئندہ چھ ماہ کے حوالے سے 34 فیصد جواب دہندگان نے معاشی حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا، جبکہ گزشتہ سروے میں یہ شرح 22 فیصد تھی۔ کاروباری اداروں نے سیاسی عدم استحکام، ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی، بلند ٹیکسز، کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کو بڑے خطرات قرار دیا۔ ساختی خطرات کے حوالے سے 84 فیصد جواب دہندگان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، 79 فیصد نے زیادہ ٹیکسز پر تشویش ظاہر کی، جبکہ 61 فیصد نے کرنسی کے عدم استحکام اور حکومتی پالیسیوں میں تسلسل کے فقدان کو کاروباری ترقی کیلئے اہم رکاوٹ قرار دیا۔
او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں، جو ملک میں بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرتی ہیں، کے درمیان کاروباری اعتماد نسبتاً بہتر رہا اور معمولی اضافے کے ساتھ مثبت 28 فیصد تک پہنچ گیا۔ بڑے شہروں میں کاروباری اعتماد 12 پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 11فیصد رہا، جبکہ پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی، ملتان، سیالکوٹ اور سکھر سمیت دیگر شہروں میں 3 پوائنٹس بہتری کے بعد اعتماد مثبت 22 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ قلیل مدتی معاشی دباؤ کے باوجود کئی ادارے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ خصوصاً او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں نے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز، بنیادی کاروباری عمل اور افرادی قوت کی تربیت میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کے حوالے سے زیادہ تیاری ظاہر کی ہے۔ واضح رہے کہ او آئی سی سی آئی کا بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے سال میں دو مرتبہ کیا جاتا ہے، جس میں شامل شرکاء پاکستان کی جی ڈی پی کے تقریباً 80 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔