امریکا نے ہارورڈ یونیورسٹی کے غیرملکی طلبہ کے داخلے کا حق منسوخ کردیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
واشنگٹن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 23 مئی2025ء)امریکا کی حکومت نے دنیا کی ممتاز ترین تعلیمی اداروں میں شمار ہونے والی ہارورڈ یونیورسٹی کو ایک بڑا دھچکا دیتے ہوئے غیرملکی طلبہ کے داخلے کی اجازت ختم کر دی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اس فیصلے کے تحت اب ہارورڈ یونیورسٹی غیرملکی طلبہ کو امریکا میں تعلیم کے لیے داخلہ نہیں دے سکے گی۔
(جاری ہے)
محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی سیکریٹری کرسٹی نوم نے ایک خط کے ذریعے اعلان کیا کہ ہارورڈ یونیورسٹی کے سٹوڈنٹ ایکسچیج وزیٹر پروگرام کے تحت سرٹیفیکیشن فوری طور پر منسوخ کر دی گئی ہے۔یہ وہ مرکزی نظام ہے جس کے تحت غیرملکی طلبہ کو امریکی تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کی اجازت ملتی ہے۔یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اور ہارورڈ یونیورسٹی کے درمیان شدید تنا پیدا ہو چکا ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ہارورڈ یونیورسٹی غیرملکی طلبہ
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔