معصومیت کا قتل: پاکستان میں بھارت کی پراکسی جنگ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
معصومیت کا قتل: پاکستان میں بھارت کی پراکسی جنگ WhatsAppFacebookTwitter 0 23 May, 2025 سب نیوز
تحریر: محمد محسن اقبال
خضدار میں جو سانحہ پیش آیا، جہاں معصوم اسکول کے بچوں کو دہشت گردی کے ایک گھٹیا ترین واقعے میں بے رحمی سے نشانہ بنایا گیا، اُس نے پوری قوم کو سوگوار کر دیا ہے اور ہمارے عزم کو مزید پختہ کر دیا ہے کہ ہم اپنی سرزمین پر منڈلاتی ہوئی اس بُرائی کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔ یہ محض بچوں پر حملہ نہیں تھا، بلکہ ہمارے مستقبل پر ایک سوچا سمجھا وار تھا — ایک بزدلانہ ضرب، جو اُس دشمن نے لگائی جو میدانِ جنگ میں ہمیں زیر کرنے میں بارہا ناکام رہا، اور اب اپنی شکست کا بدلہ ہمارے بچوں کے خون سے لینا چاہتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ آخر کیوں پاکستان کے معصوم اور بے گناہ اسکول جانے والے بچے ایسے سفاک جرائم کا نشانہ بنتے ہیں؟ قوم آج بھی 16 دسمبر 2014 کے اُس ہولناک دن کا زخم سینے سے لگائے ہوئے ہے، جب دہشت گردوں نے پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملہ کر کے 140 سے زائد افراد، جن میں اکثریت بچوں کی تھی، کو شہید کر دیا تھا۔ وہ دن ایسا تھا کہ آسمان بھی رو پڑا اور زمین ساکت ہو گئی۔ اب وہی ڈراؤنا خواب خضدار میں دوبارہ اُتر آیا ہے۔ ہمارے دشمن کا پیغام واضح ہے؛ اگر ہم تمہیں جنگ میں نہیں ہرا سکتے تو تمہارے بچوں کو مار کر تمہیں توڑ دیں گے۔
یہ حکمتِ عملی کسی عسکری منصوبہ بندی کا نتیجہ نہیں، بلکہ مایوسی اور غیر انسانی سفاکیت کا اظہار ہے۔ پشاور حملے کے بعد حکومتِ پاکستان نے اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کے سامنے ایک جامع دستاویز (ڈوزیئر) پیش کی تھی، جس میں بھارتی مداخلت اور دہشت گردوں کی پشت پناہی کے ناقابلِ تردید شواہد شامل تھے۔ اس میں افغانستان میں موجود بھارتی ایجنسیوں سے تعلق رکھنے والے عناصر اور دہشت گردوں کے درمیان روابط کی ریکارڈ شدہ گفتگو شامل تھی، مالی معاونت کے وہ ذرائع شامل تھے جو بھارت سے جُڑے ہوئے تھے، اور بھارتی سرپرستی میں افغان سرزمین کو استعمال کرنے کے ثبوت موجود تھے۔
تاہم، ان سنگین انکشافات کے باوجود، عالمی برادری نے قابلِ افسوس حد تک بے حسی کا مظاہرہ کیا۔ وہ ڈوزیئر جو سفارتی دباؤ اور عالمی مذمت کا سبب بننا چاہیے تھا، خاموشی سے نظرانداز کر دیا گیا۔ اگر اُس وقت اس ثبوت کو سنجیدگی سے لیا جاتا اور بھارت کو 2014 میں ہی جوابدہ ٹھہرایا جاتا تو شاید خضدار کا سانحہ نہ ہوتا۔
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں:
”اور کسی جان کو ناحق قتل نہ کرو جس کو اللہ نے حرام کیا ہے…”
(سورة بنی اسرائیل، 17:33)
یہ حکمِ ربانی نہ صرف اسلامی فقہ کا بنیادی اصول ہے بلکہ ایک آفاقی اخلاقی سچائی بھی ہے۔ معصوم جانوں کا قتل، خاص طور پر بچوں کا، ایک ایسا گناہ ہے جو آسمانوں تک فریاد کرتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جنگ کے دوران عورتوں اور بچوں کے قتل سے سختی سے منع فرمایا۔ ایک صحیح حدیث میں آیا ہے
”کسی بچے، عورت، بوڑھے یا بیمار کو قتل نہ کرو۔”
(سنن ابی داؤد)
ان تعلیمات کا موازنہ خضدار اور پشاور میں ہونے والی بربریت سے کیا جائے تو یہ تضاد صاف نظر آتا ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس ناانصافی کے خلاف مضبوط اور بلند آواز میں کھڑے ہوں۔ پاکستان کو چاہیے کہ 2014 کے ڈوزیئر کو دوبارہ زندہ کرے اور خضدار کے واقعے سے حاصل ہونے والے نئے شواہد کے ساتھ عالمی اداروں کے سامنے پیش کرے۔ ان واقعات میں مماثلت محض اتفاق نہیں، بلکہ ایک تسلسل ہے۔ بلوچستان میں خفیہ کارروائیوں سے لے کر علیحدگی پسندوں اور دہشت گرد گروہوں کی مالی معاونت تک، بھارت نے پاکستان کے خلاف ایک طویل پراکسی جنگ چھیڑ رکھی ہے، اور نشانہ ہمیشہ وہی بنتے ہیں جو سب سے زیادہ کمزور اور بے بس ہوتے ہیں۔
دنیا بخوبی جانتی ہے کہ کون سے ممالک ظلم و بربریت کو اپنی ریاستی پالیسی بنا چکے ہیں۔ چاہے وہ غزہ ہو یا کشمیر، اسرائیل ہو یا بھارت — یہ وہی درندہ صفت سوچ ہے جو بچوں، عورتوں اور پرامن شہریوں کے سینوں میں گولیاں اتارتی ہے۔ لیکن یہ طاقتور اقوام سفارتی پردوں اور عالمی اتحادوں کے پیچھے چھپ جاتی ہیں، جبکہ معصوموں کا خون بہتا رہتا ہے۔
پاکستان کو اب محض بیانات دینے سے آگے بڑھنا ہوگا۔ ہمیں اپنی سول و عسکری انٹیلی جنس کو ہم آہنگ کرنا ہوگا، سرحدی نگرانی کو مؤثر بنانا ہوگا، اور سفارتی محاذ پر بھرپور حملہ کرنا ہوگا۔ دنیا کو بار بار دکھانا ہوگا کہ ہمارا دشمن کس حد تک جا سکتا ہے — الزامات کے ساتھ نہیں، بلکہ ناقابلِ تردید ثبوتوں، ڈوزیئرز اور حقائق کے ساتھ۔ خضدار کا سانحہ ایک عالمی مطالبہِ انصاف کا نعرہ بننا چاہیے، نہ کہ ایک بھولی بسری خبر۔
ساتھ ہی، ہمیں اسی قوت اور حکمتِ عملی سے جواب دینا ہوگا جس نے پشاور کے بعد دہشت گردی کی کمر توڑی تھی۔ ہمیں اپنی سیکیورٹی مشینری کو ازسرِ نو متحرک کرنا ہوگا۔ ہمیں دشمن کو یہ ہرگز یقین نہیں ہونے دینا چاہیے کہ بچوں کو نشانہ بنا کر ہماری ہمت توڑی جا سکتی ہے۔ یہ کبھی نہیں ہوگا — اور نہ ہونے دیں گے۔
یہ لمحہ عالمی ضمیر کے لیے بھی ایک موقع ہے کہ وہ اپنا محاسبہ کرے۔ آخر کتنے اور بچے شہید ہوں گے کہ دنیا اصول کی بنیاد پر عمل کرے، نہ کہ مفادات کی؟ کتنی اور میتیں دفنائی جائیں گی کہ انصاف اندھا اور بے حس نہ رہے؟
قرآن مجید میں ارشاد ہے
جس نے کسی ایک جان کو ناحق قتل کیا، گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا، اور جس نے ایک جان بچائی، گویا اس نے پوری انسانیت کو بچا لیا۔
(سورة المائدہ، 5:32)
لہٰذا، ہمارا مشن نہ صرف قومی، بلکہ ایک انسانی فریضہ بھی ہے۔ یہ قرض شہدائے پشاور کا ہے، خضدار کے مظلوموں کا ہے، اور ہر اُس ماں کی آہ کا ہے جس کی گود اُجڑ گئی۔ دشمن خوف پھیلانا چاہتا ہے — ہمیں اس کا جواب اتحاد، انصاف اور سچائی سے دینا ہوگا۔
ہم اب مزید خاموشی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ہمارے بچوں کا خون ہر تقریر سے بلند ہے، اور وہ انصاف کا ایسا مطالبہ ہے جسے دنیا کا کوئی بھی ملک نظرانداز نہیں کر سکتا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرفیلڈ مارشل عاصم منیر سے پاکستان کرپٹو کونسل کے سی ای او بلال بن ثاقب کی ملاقات گرمی کی لہر فطرت کا انتقام یا انسانوں کی لاپروائی؟ جوائنٹ فیملی سسٹم میں پھنسی لڑکیاں: جدید سوچ، پرانے بندھن ایک پُرامن قوم، ایک زوردار انتباہ پاکستان میں نوجوان نسل اور سگریٹ نوشی عنوان: پاکستان میں اقلیتی برادریوں کا کردار اور درپیش چیلنجز دھوکہ دہی کی بازگشت: یو ایس ایس لبرٹی 1967 سے پہلگام 2025 تکCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پاکستان میں
پڑھیں:
بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
گزشتہ ماہ 15 مئی کو بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت نے ایک سماعت کے دوران جعلی ڈگریوں کے ذریعے مختلف پیشوں میں آ جانے والے لوگوں کو پیراسائٹس قرار دیا تو ان کے اِس بیان نے نہ صرف سوشل میڈیا پر ایک بحث کو جنم دیا بلکہ ایک سیاسی جماعت بھی قائم ہوگئی جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔
گوکہ بعد میں بھارتی چیف جسٹس کانت نے وضاحت کی کہ ان کے الفاظ کو غلط انداز میں پیش کیا گیا اور ان کا ہدف تمام بے روزگار نوجوان نہیں تھے بلکہ مخصوص افراد تھے جنہوں نے جعلی اسناد کے ذریعے پیشہ ورانہ شعبوں میں جگہ بنائی لیکن بیان پر آنے والا عوامی ردعمل کم نہیں ہوا۔
مزید پڑھیں: کاکروچ جنتا پارٹی: اکاؤنٹس ہیک، اہلخانہ کو ہراساں کیا جا رہا ہے، بانی بھارتی جین زی اکاؤنٹ
بھارتی حکومت کی جانب سے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات ’کاؤنٹر پروڈکٹو‘ ثابت ہو رہے ہیں۔
بھارتی حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کو محدود کرنے کی کوششیں کی ہیں لیکن یہ اقدامات جین زی کو پارٹی سے زیادہ جوڑ رہے ہیں۔
کاکروچ جنتا پارٹی کیسے بنی؟بھارتی چیف جسٹس سوریا کانت کے ریمارکس کے ردعمل میں امریکا میں مقیم بھارتی طالب علم اور تعلقاتِ عامہ کے ماہر ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پر ایک طنزیہ سیاسی پلیٹ فارم قائم کیا جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔
ابتدائی طور پر یہ ایک مزاحیہ اور طنزیہ مہم تھی، لیکن چند ہی دنوں میں لاکھوں نوجوان اس میں شامل ہوگئے۔ پارٹی نے اپنے آپ کو بے روزگار، آن لائن رہنے والے اور نظام سے مایوس نوجوانوں کی آواز کے طور پر پیش کیا اور اس کا مقصد روایتی سیاست کا مذاق اڑانا تھا۔
نوجوان نسل میں بڑھتا ہوا غم و غصہ بی جے پی کے سوشل میڈیا پر غلبے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت جس طرح اصل مسائل سے صرفِ نظر کرتے ہوئے تمام مسائل کو مذہب سے جوڑتی چلی آئی ہے اور جس طرح سے اس نے نوجوانوں کی بے روزگاری اور تعلیمی مسائل کو قالین کے نیچے چھپانے کی کوشش کی ہے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی مقبولیت نے تمام مفروضے غلط ثابت کر دیے ہیں۔
بھارتی سوشل میڈیا جو زیادہ تر وہاں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے غلبے میں ہے اور جہاں بی جے پی پر تنقید کو ہندوؤں پر تنقید سے تعبیر کرکے ٹرولنگ اور نفرت کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ایسے ماحول کے اندر کاکروچ جنتا پارٹی کا بی جے پی کے سوشل میڈیا غلبے کو توڑنا ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی اب تک کیا کچھ کر چُکی ہے؟’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے قیام کے بعد محض 2 ہفتوں کے اندر یہ ایک سوشل میڈیا مذاق یا میم مہم سے بڑھ کر ایک قابلِ ذکر سیاسی و سماجی فِنامنا بن گئی ہے۔ لاکھوں نوجوانوں نے آن لائن اس کی رکنیت اختیار کی جبکہ انسٹاگرام، ایکس اور دیگر پلیٹ فارمز پر اس کے صفحات نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔
چند ہی دنوں میں اس کے انسٹاگرام فالوورز کی تعداد کروڑوں تک جا پہنچی ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی جو تاحال ایک غیر منظم تحریک کی شکل میں موجود ہے اس نے بے روزگاری، نوکریوں کے لیے مقابلے کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں، پرچہ لیک اسکینڈلز، مہنگائی اور نوجوانوں کے معاشی مسائل کو اپنی مہم کا مرکزی موضوع بنایا۔
حکومت کی جانب سے اس کے ایکس اکاؤنٹ کو بھارت میں محدود یا معطل کیے جانے کے بعد معاملہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا اور اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا گیا، جس کے نتیجے میں آزادیِ اظہار اور سوشل میڈیا سنسرشپ پر نئی بحث چھڑ گئی۔
ادھر دہلی، ممبئی، پونے، بنگلورو اور دیگر شہروں میں نوجوانوں نے علامتی احتجاجی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جہاں بعض شرکا نے کاکروچ کے ماسک اور ملبوسات پہن کر خود کو اس متنازع اصطلاح سے منسلک کیا جس نے اس تحریک کو جنم دیا تھا۔
تحریک کے بانی ابھجیت دیپکے نے خدشہ ظاہر کیا کہ بھارت واپسی کی صورت میں انہیں قانونی کارروائی یا گرفتاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس تمام عرصے میں کاکروچ جنتا پارٹی نے نوجوان نسل کے سوالات کو ایک منظم اور نمایاں ڈیجیٹل آواز فراہم کردی، جس کے باعث یہ معاملہ اب محض ایک طنزیہ مہم نہیں بلکہ بھارت کے سیاسی مباحثے کا اہم موضوع بن چکا ہے۔
کیا کاکروچ جنتا پارٹی واقعی سیاسی قوت بن سکتی ہے؟پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے 6 جون کو بھارت واپسی اور جنتر منتر (دہلی میں احتجاجات کے لیے معروف مقام) پر احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا ہے جو وزیرِ تعلیم کے استعفیٰ کے لیے دیا جائے گا۔
2011-12 میں بھارتی سماجی کارکن انا ہزارے نے بھی جنتر منتر پر دھرنا دیا تھا جس کا مقصد کرپشن کے خلاف لوک پال بِل (قانون سازی) کی منظوری تھا جس میں وہ کامیاب رہے لیکن انا ہزارے نے اپنی تحریک کو سیاسی تحریک نہیں بنایا تھا، تاہم ان کی جماعت کے ایک سرکردہ رہنما اروند کیجریوال نے بعدازاں ایک سیاسی جماعت عام آدمی پارٹی کی بنیاد رکھی جس نے پہلے دہلی اور اب بھارتی پنجاب میں حکومت بنا رکھی ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی اپنی مقبولیت کے باعث کوئی سیاسی جماعت قائم کر سکے گی یا نہیں اس پر بھارت کے سیاسی مبصرین منقسم ہیں۔
بعض تجزیہ کاروں کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی صرف ایک ’میم موومنٹ‘ ہے جو وقت کے ساتھ ختم ہو جائے گی۔ اس کے پاس نہ تنظیمی ڈھانچہ ہے، نہ مقامی قیادت اور نہ ہی کوئی واضح انتخابی حکمت عملی۔
مزید پڑھیں: کاکروچ جنتاپارٹی کا بھارتی وزیرِ تعلیم کیخلاف احتجاج کا اعلان
دوسری جانب کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی اصل اہمیت انتخابات میں نہیں بلکہ اس حقیقت میں ہے کہ اس نے نوجوانوں کی ناراضی کو منظم شکل دے دی ہے۔ یہ تحریک شاید خود سیاسی جماعت نہ بن سکے، لیکن اس نے بھارتی سیاست کو یہ پیغام ضرور دیا ہے کہ سوشل میڈیا کی نئی نسل روایتی نعروں سے مطمئن نہیں ہوتی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بھارت بھارتی چیف جسٹس حکومت کے لیے چیلنج سوشل میڈیا مہم کاکروچ جنتا پارٹی وی نیوز