104 ارب کے ترقیاتی منصوبے منظور، 96 ارب کے منصوبے ایکنک کو ارسال
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر صدارت سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) کا اجلاس ہوا۔
وزارت منصوبہ بندی کے اعلامیے کے مطابق سی ڈی ڈبلیو پی اجلاس میں 104 ارب کے ترقیاتی منصوبے منظور کرلیے گئے ہیں۔
اعلامیے کے مطابق 96 ارب کے 3 بڑے منصوبے قومی اقتصادی کونسل (ایکنک) کو بھجوادیے گئے ہیں۔
وزارت منصوبہ بندی کے اعلامیے کے مطابق سی ڈی ڈبلیو پی نے 8 ارب روپے کے 4 منصوبے اور صنعت و تجارت کے 2 منصوبوں کی منظوری دی گئی۔
اعلامیے کے مطابق 1000 سلائی یونٹس فیز 2 کی منظور ی دی گئی، جس کی لاگت 1 اعشاریہ 95 ارب روپے ہوگی جبکہ ایس ایم ای فیسیلیٹیشن سینٹرز کی زمین خریداری کےلیے سوا ارب منظور کیے گئے ہیں۔
وزارت منصوبہ بندی کے اعلامیے کے مطابق پاکستان کی پہلی قمری گاڑی منصوبے کےلیے 2 اعشاریہ 53 ارب منظور کیے گئے ہیں جبکہ پاکستانی انسان بردار خلائی مشن منصوبے کی لاگت 2 اعشاریہ 24 ارب روپے ہوگی۔
اعلامیے کے مطابق سانگھڑ تا روہڑی سڑک کا 36 اعشاریہ 91 ارب اور روہڑی تا گڈو بیراج نئی سڑک کے منصوبے ایکنک کو ارسال کیے گئے ہیں۔
وزارت منصوبہ بندی کے اعلامیے کے مطابق مہران ہائی وے نواب شاہ تا راجن پور 2 رویہ بنانے کا 41 ارب روپے کا منصوبہ بھی ایکنک کو ارسال کیا گیا ہے۔
دوران اجلاس وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے منصوبوں کی لاگت مارکیٹ ریٹس کے مطابق کرنے کی ہدایت کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: وزارت منصوبہ بندی کے اعلامیے کے مطابق ارب روپے گئے ہیں ارب کے
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔ نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔ ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔