الیکشن کمیشن کا بے ضابطگیوں کی شکایات پر نوٹس ، جمعیت اہلحدیث کے مرکزی امیر کا انتخاب خطرے میں پڑ گیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
الیکشن کمیشن کا بے ضابطگیوں کی شکایات پر نوٹس ، جمعیت اہلحدیث کے مرکزی امیر کا انتخاب خطرے میں پڑ گیا WhatsAppFacebookTwitter 0 23 May, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)الیکشن کمیشن کی جانب سے بے ضابطگیوں کی شکایات پر نوٹس لینے کے بعد مرکزی جمیعت اہلحدیث پاکستان کے مرکزی امیر کا انتخاب خطرے میں پڑ گیا۔
پروفیسر ساجد میر کی وفات سے خالی ہونے والے امیر کے عہدے کا انتخاب 25 مئی کو ہونا تھا، امارت کے امیدوار ڈاکٹر زعیم الدین لکھوی نے الیکشن کمیشن کودی گئی درخواست میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی تھی۔
درخواست گزار نے موقف اختیار کیا ہے کہ پارٹی دستور کے مطابق الیکشن قوانین کی خلاف ورزی کی گئی ، نیا الیکشن بورڈ بننے تک امیر کے عہدے پر انتخاب کرانا خلاف قانون ہے۔ پارٹی دستور کے تقاضے پورے ہونے تک الیکشن منسوخ کیا جائے۔درخواست گزار کی شکایت پر الیکشن کمیشن نے قائم مقام امیر مولانا ابو تراب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آج طلب کر لیا۔یاد رہے کہ امارت کے عہدے کے لیے حافظ عبدالکریم اور ڈاکٹر زعیم الدین عابد لکھوی میں مقابلہ ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرخیبرپختونخوا حکومت کا بٹگرام کی تحصیل آلائی کو ضلع کا درجہ دینے کا فیصلہ خیبرپختونخوا حکومت کا بٹگرام کی تحصیل آلائی کو ضلع کا درجہ دینے کا فیصلہ وزارت صحت کا ڈینگی کے خاتمے کیلئے متعلقہ حکام کو مراسلہ جاری وفاقی بجٹ پیش کرنے کی تاریخ تبدیل،اب 10جون کو پیش کیا جائے گا چیئرمین پی ٹی آئی کی شاہ محمود قریشی سے ملاقات، سیاسی امور پر تبادلہ خیال میانوالی بڑی تباہی سے بچ گیا، سی ٹی ڈی کی جوابی فائرنگ سے 3خطرناک دہشتگرد ہلاک وزیراعظم نے نیشنل ایکشن پلان کی تشکیل نو کر دی ہے، سیکرٹری داخلہ خرم آغاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: بے ضابطگیوں کی الیکشن کمیشن کا انتخاب
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔