ٹرمپ کی آئی فون کے بعد اسمارٹ فونز اور یورپی یونین پر بھی اضافی ٹیکس کی دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایپل کے بعد اب جنوبی کوریا کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی سام سنگ اور دیگر اسمارٹ فونز بنانے والے اداروں کو بھی دھمکی دے دی ہے کہ اگر وہ اپنی مصنوعات امریکا میں نہیں بنائیں گے تو انہیں اضافی ٹیکس عائد کیا جائے گا۔
جمعے کے روز وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ٹیکس عائد کرنے کا اصل صرف ایپل تک محدود نہیں ہوگا بلکہ سام سنگ اور ہر اُس کمپنی پر لاگو ہوگا جو اپنی امریکا سے باہر بنائیں گی۔
مزید پڑھیں: بھارت میں آئی فون بنائے تو 25 فیصد ٹیرف عائد ہوگا، امریکی صدر ٹرمپ نے خبردار کردیا
انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام جون کے آخر تک نافذ کردیا جائے گا۔
اس سے قبل جمعے کو ہی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ٹرمپ نے ایک بیان میں اعلان کیا تھا کہ اگر ایپل نے اپنے آئی فون امریکا میں تیار نہ کیے تو ان پر 25 فیصد ٹیرف (درآمدی ٹیکس) عائد کیا جائے گا۔
اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے کافی پہلے ایپل کے سی ای او ٹم کُک کو آگاہ کردیا تھا کہ وہ تمام آئی فونز جو امریکا میں فروخت کیے جائیں گے، انہیں امریکا ہی میں تیار کیا جانا چاہیے، نہ کہ بھارت یا کسی اور ملک میں۔ اگر ایسا نہ ہوا تو ایپل کو کم از کم 25 فیصد ٹیرف ادا کرنا ہوگا‘۔
مزید پڑھیں: ’بھارت میں آئی فون کی پروڈکشن نہیں چاہتا‘، ڈونلڈ ٹرمپ کا ایپل کے سی ای او کو واضح پیغام
اس کے علاوہ، صدر ٹرمپ نے یورپی یونین سے درآمد ہونے والی تمام مصنوعات پر یکم جون 2025 سے 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی بھی دھمکی دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کے ساتھ تجارتی مذاکرات میں کوئی پیشرفت نہیں ہورہی۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ یورپی یونین کا قیام امریکا سے تجارتی فائدہ اٹھانے کے لیے ہوا تھا مگر اب ان کے ساتھ بات چیت انتہائی دشوار ہے۔ ان کی جانب سے تجارتی رکاوٹیں، وی اے ٹی ٹیکس، غیر معقول کارپوریٹ جرمانے، غیر مالیاتی رکاوٹیں، کرنسی میں ہیرا پھیری اور امریکی کمپنیوں کے خلاف ناجائز قانونی کارروائیاں ناقابلِ قبول ہیں۔
ٹرمپ نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہماری ان سے بات چیت آگے نہیں بڑھ رہی اور وہ یکم جون 2025 سے یورپی یونین پر 50 فیصد ٹیرف نافذ کرنے کی سفارش کررہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: یورپی یونین فیصد ٹیرف تھا کہ کہا کہ
پڑھیں:
بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔