ٹرمپ نے جوہری توانائی کے پہلے ایگزیکٹیو آرڈر پر دستخط کر دیئے
اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکی صدر نے اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ موبائل فون کمپنیوں پر بھی 25 فیصد ٹیرف عائد کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جوہری توانائی کے پہلے ایگزیکٹیو آرڈر پر دستخط کر دیئے۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکی صدر نے اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ موبائل فون کمپنیوں پر بھی 25 فیصد ٹیرف عائد کریں گے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ یورپی یونین کے ساتھ کسی تجارتی معاہدے کی کوشش نہیں کر رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یورپی یونین پر ٹیرف پچاس فیصد ہی ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔