ماہرہ نے فلمی پوسٹر سے تصویر ہٹانے کو چھوٹی حرکت قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT
فلم رئیس سے بالی ووڈ میں انٹری دینے والی پاکستانی سُپر اسٹار ماہرہ خان نے رئیس کے پوسٹر سے اپنی تصویر ہٹائے جانے پر ردعمل دے دیا۔
انہوں نے کہا کہ مجھے یہ دیکھ کر ہنسی آئی، یہ بہت چھوٹی حرکت ہے۔
ماہرہ خان ان دنوں اپنی آنے والی فلم لو گرو کی ملکی و غیر ملکی سطح پر ہونے والی تشہیری مہم میں مصروف ہیں۔ اس دوران انہوں نے صحافیوں سے بھی گفتگو کی۔
View this post on InstagramA post shared by Pakistani.
ایک انٹرویو کے دوران صحافی نے سوال پوچھا کہ فلم رئیس کے پوسٹر سے آپ کی تصویر ہٹا دی گئی کیا آپ کو بُرا لگا؟
صحافی کے سوال پر خوبرو اداکارہ ہنس پڑیں اور کہنے لگیں کہ بالکل بھی نہیں، مجھے ایک لمحے کےلیے بھی بُرا نہیں لگا۔ میرے خیال میں یہ بہت چھوٹی اور بیوقوفانہ چیز ہے جو بھارت نے کی ہے۔
View this post on InstagramA post shared by Galaxy Lollywood (@galaxylollywood)
بھارت میں کام کرنے سے متعلق سوال پر اداکارہ نے کہا کہ ہمیں اپنی انڈسٹر کو بہتر بنانے ضرورت ہے اور فلمی صنعت کو بہتر بنانے کےلیے ضروری ہے کہ حکومت تعاون کرے، دنیا بھر میں فلم انڈسٹری کےلیے بجٹ مختص کیا جاتا ہے اور اسی طرح فلمیں ترقی کرتی ہیں۔ ہمارے یہاں بھی اس کی ضرورت ہے کہ حکومت اس جانب توجہ دے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت بحیثیت قوم یہ ضروری ہے کہ اپنے اندر موجود کمی کو پورا کریں خامی کو دور کریں۔
Post Views: 5
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
لاہور : پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔