مجھے بالکل بھی پروا نہیں؛ مائرہ خان نے بھارتی فلم انڈسٹری کو آئینہ دکھا دیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, May 2025 GMT
بھارتی فلم 'رئیس' میں شاہ رخ خان کے ساتھ کام کرنے والی ماہرہ خان نے فلم پوسٹرز سے اپنی تصویر ہٹائے جانے پر پہلی بار ردعمل دیا ہے۔
ماہرہ خان ان دنوں اداکار ہمایوں سعید کے ہمراہ عید الاضحیٰ پر ریلیز ہونے والی اپنی فلم ’’لوو گرو‘‘ کی پروموشن میں مصروف ہیں۔
ماہرہ خان نے بھارتی فلموں میں bhi کام کیا ہے۔ جن میں سے ایک شاہ رخ کی بلاک بسٹر فلم رئیس بھی ہے۔
لوو گرو کی پروموشن کے دوران ماہرہ خان سے جب یہ پوچھا گیا کہ وہ بھارت میں فلم رئیس کے پوسٹرز سے اپنی تصویر ہٹانے پر کیسا محسوس کر رہی ہیں۔
جس پر اداکارہ نے نہایت پُراعتماد انداز میں کہا کہ مجھے ذرا بھی برا نہیں لگا بلکہ میں تو ہنس دی تھی۔ یہ بہت چھوٹی اور فضول سی حرکت تھی۔
ماہرہ خان نے مزید کہا کہ پاکستانی اداکاروں کے پاس اپنی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کے بارے میں خوش ہونے کے لیے بہت کچھ ہے۔
اس موقع پر اداکار ہمایوں سعید نے بھی لقمہ دیا کہ بھارت کا عمل ایک بہت چھوٹی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔
یاد رہے کہ پہلگام حملے کے بعد مودی سرکار نے اپنی ناکامی چھپانے کے لیے اس کا بے بنیاد الزام پاکستان پر عائد کیا تھا اور پاکستانی فنکاروں پر بھارتی فلموں میں کام پر پابندی لگادی تھی۔
مودی سرکار نے اس کے علاوہ ایسی تمام بھارتی فلموں کے گانے اور پوسٹرز سے پاکستانی فنکاروں کو نکال دیا تھا جو ماضی میں کافی مقبولیت حاصل کرچکے تھے۔
بھارت میں پاکستانی اداکاروں، گلوکاروں اور کرکٹرز کے یوٹیوب چینلز پر پابندی اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کردیئے گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بھارتی فلم ماہرہ خان
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔