حج کے موسم میں غیر مجاز زائرین کو روکنے کے لیے ایک اہم اقدام میں سعودی حکام نے مقدس شہر مکہ مکرمہ میں ڈرون سے نگرانی شروع کر دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پرائیویٹ حج اسکیم کے تحت حج کا کوٹہ نامکمل کیوں رہا؟ تحقیقاتی کمیٹی قائم

اس اقدام کا مقصد سرکاری حج اجازت نامے کے بغیر افراد کے داخلے کی نگرانی اور روکنا ہے۔

سعودی سرکاری میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ڈرون آپریشن پہلے ہی غیر قانونی طور پر حج کرنے کی کوشش کرنے والے سینکڑوں خلاف ورزی کرنے والوں کو روزانہ گرفتار کرنے کا باعث بنا ہے۔

حراست میں لیے گئے افراد میں انڈونیشیائی شہری بھی شامل ہیں جن پر فرضی حج پرمٹ مہم کو فروغ دینے کا شبہ ہے۔

بعد میں ہونے والی تحقیقات کے نتیجے میں مزید 14 افراد کو ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا، جن میں سے کسی کے پاس حج کی درست دستاویزات نہیں تھیں۔

یہ بھی پڑھیں:جدہ جانے والی حج پرواز کی کراچی ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ

جائز حجاج کے لیے سفری تجربے کو بہتر بنانے کے لیے ایک الگ پیش رفت میں، سعودی ڈیٹا اینڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس اتھارٹی (SDAIA) نے مدینہ کے شہزادہ محمد بن عبدالعزیز بین الاقوامی ہوائی اڈے پر 20 الیکٹرانک گیٹس (ای گیٹس) نصب کیے ہیں۔

یہ ہائی ٹیک گیٹس امیگریشن کے عمل کو تیز کرنے اور آنے والے حاجیوں کے انتظار کے اوقات کو کم کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔

SDAIA  امیگریشن اور ہوائی اڈے کے حکام کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ مصنوعی ذہانت کے حل کو تعینات کیا جا سکے جو داخلے کے طریقہ کار کو ہموار کرتے ہیں۔

ای گیٹس کے علاوہ فوری پروسیسنگ کی سہولت کے لیے پاسپورٹ پڑھنے کے 30 سے ​​زیادہ جدید آلات نصب کیے گئے ہیں۔

بلاتعطل سروس کو یقینی بنانے کے لیے، کسی بھی تکنیکی مسائل یا سسٹم کی خرابی کی صورت میں فوری جواب دینے کے لیے SDAIA کی مخصوص ٹیمیں سائٹ پر تعینات کی گئی ہیں۔

مدینہ میں آمد کے ٹرمینل کو اضافی اہلکاروں اور چار جدید ترین فنگر پرنٹ سکیننگ یونٹس کے ساتھ مزید تقویت دی گئی ہے، جس سے آنے والے حج مسافروں کے لیے امیگریشن کے عمل کی سیکیورٹی اور کارکردگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

SDAIA ای گیٹس حج ڈرون غیر قانونی حج فضائی نگرانی.

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ای گیٹس کے لیے

پڑھیں:

امریکا سے مزید 39 بنگلہ دیشی واپس، ہر فرد نے 30 سے 35 لاکھ ٹکا خرچ کیے

امریکا سے مزید 39 بنگلہ دیشی باشندے خصوصی امریکی فوجی پرواز کے ذریعے واپس ڈھاکا پہنچے ہیں۔ یہ پرواز جمعہ کی صبح قریباً 5:30 بجے حضرت شاہ جلال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اتری، جہاں ایئرپورٹ حکام کے تعاون سے واپسی آنے والوں کو ہنگامی مدد اور نقل و حمل کی سہولت فراہم کی۔

بنگلہ دیش مائیگریشن پروگرام کے مطابق، واپس آنے والوں میں سے 26 افراد نواخالی کے ہیں۔ باقی افراد میں کوملا، سلہٹ، فینی اور لکشمی پور سے دو دو، جبکہ چٹگرام، غازی پور، ڈھاکا، منشی گنج اور نرسنگدی سے ایک ایک شامل ہے۔ اس گروپ کی واپسی کے ساتھ، امسال امریکا سے واپس آنے والے بنگلہ دیشیوں کی تعداد 187 تک پہنچ گئی ہے۔

مزید پڑھیں:چین کا بنگلہ دیش میں پٹ سن پر منحصر صنعتوں میں بڑی سرمایہ کاری کا عندیہ

حکام نے بتایا کہ ان 39 افراد میں سے کم از کم 34 نے برازیل جانے کے لیے قانونی اجازت لی تھی، لیکن وہاں سے غیر قانونی طور پر میکسیکو کے راستے امریکا پہنچنے کی کوشش کی۔ باقی 5 افراد میں سے 2 براہ راست امریکا گئے جبکہ 3 نے جنوبی افریقہ کے راستے امریکا کا سفر کیا۔ تمام افراد نے امریکا میں رہائش کے لیے درخواست دی، لیکن قانونی کارروائی کے بعد امریکی حکام نے انہیں ملک بدر کرنے کا حکم دیا۔

مائیگریشن اور یوتھ پلیٹ فارم کے ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر شریف الحسن نے سوال اٹھایا کہ جب یہ افراد قانونی طور پر برازیل جا سکتے تھے تو یہ بات کیوں نظر انداز کی گئی کہ وہ امریکا جانے کے لیے اسے عبوری راستہ استعمال کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ہر فرد نے 30 سے 35 لاکھ ٹکا صرف کیا اور بالآخر خالی ہاتھ واپس آئے۔ اس کے ذمہ دار کون ہیں؟ انہوں نے مزید کہا کہ بھرتی کرنے والی ایجنسیاں اور اجازت دینے والے حکام جواب دہ ہوں، اور حکومت کو نئے ملازمین کو برازیل بھیجنے سے پہلے اپنی کارروائی کے طریقہ کار کا جائزہ لینا چاہیے۔

ایئرپورٹ ذرائع اور واپس آنے والے افراد نے بتایا کہ اس سال کے پہلے گروپوں کے مقابلے میں، جنہیں ہاتھوں اور پیروں میں زنجیروں کے ساتھ واپس بھیجا گیا تھا، اس بار واپسی میں ایسا عمل نہیں کیا گیا۔

مزید پڑھیں:بنگلہ دیش: شیخ حسینہ کو 3 کرپشن کیسز میں مجموعی طور پر 21 سال قید کی سزا

ڈونلڈ ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس میں دوبارہ آنے کے بعد، امریکی حکام نے غیر قانونی تارکینِ وطن پر کریک ڈاؤن تیز کر دیا ہے۔ اس سخت نفاذ کے تحت، پچھلے چند مہینوں میں کئی بنگلہ دیشی اور دیگر غیر ملکی شہری ملک بدر کیے جا چکے ہیں۔

امریکی قوانین کے مطابق، غیر قانونی تارکینِ وطن کو عدالت کے حکم یا انتظامی فیصلہ کے بعد ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔ اگر پناہ کی درخواست ناکام ہو جائے تو امریکا کی امیگریشن اور کسٹمز انسپیکشن واپسی کا انتظام کرتا ہے۔ حالیہ مہینوں میں اس عمل میں تیزی آئی ہے، جس کے نتیجے میں چارٹرڈ اور فوجی پروازوں کا زیادہ استعمال کیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

39 بنگلہ دیشی امریکا بنگلہ دیش

متعلقہ مضامین

  • چینی افواج کی ہوانگ یئن جزیرے کے علاقائی پانیوں اور فضائی حدود میں جنگی تیاریوں کے تحت نگرانی
  • افغان پاسپورٹ ہولڈرز کے ویزے روک دیے، امریکی وزیر خارجہ
  • امریکا کا افغان پاسپورٹ ہولڈرز کے ویزے اور اسائلم فیصلے فوری    معطل کرنے کا فیصلہ
  • ناظم آباد میں کے الیکٹرک کاعملہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کربجلی چوری کے خلاف کارروائی کررہاہے
  • شہری کی نجی تعلیمی ادارے کے خلاف شکایات موصول ہونے پر کمشنر کا ایکشن
  • بھارت میں دوسری شادی پر پابندی، قانون کی خلاف ورزی پر 10 سال قید اور بھاری جرمانہ
  • ڈمپر ایسوسی ایشن کے صدر لیاقت محسود کے خلاف قانونی کارروائی میں شدت
  • امریکا سے مزید 39 بنگلہ دیشی واپس، ہر فرد نے 30 سے 35 لاکھ ٹکا خرچ کیے
  • فورسز کی ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائی، 22 خوارج ہلاک
  • حکومت نے “ستھرا پنجاب پروگرام” کو قانونی شکل دیدی، اتھارٹی قائم